سائنسدانوں نے پہلی بار جنوبی بحرِ منجمد میں انٹارکٹک برفانی سرحد کا تفصیلی نقشہ تیار کرلیا

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے پہلی بار جنوبی بحرِ منجمد میں موجود انٹارکٹک ’مارجنل آئس زون(MIZ) ‘ کی زیادہ درست پیمائش اور نقشہ سازی میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ وہ متحرک علاقہ ہے جہاں سمندری لہریں، برف، ماحول اور انٹارکٹک حیاتِ وحش ایک دوسرے سے تعامل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انٹارکٹکا میں تیز رفتار ماحولیاتی تبدیلیاں، پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوں گے

تحقیق University of Tasmania کی سربراہی میں کی گئی، جس میں 1980 کی دہائی کی ریڈار ٹیکنالوجی کو جدید انداز میں دوبارہ استعمال کیا گیا۔ محققین کے مطابق روایتی طریقوں میں صرف برف کی مقدار کو بنیاد بنایا جاتا تھا، جبکہ نئی تحقیق نے واضح کیا کہ انٹارکٹکا کے قریباً 16 فیصد برفانی علاقے لہروں سے متاثر ہوتے ہیں۔

مطالعے کے مطابق اس برفانی سرحد کی چوڑائی موسم اور مقام کے لحاظ سے قریباً 35 کلومیٹر سے 180 کلومیٹر تک بدلتی رہتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ سمندر، فضا اور برف کے درمیان حرارت، نمی اور گیسوں کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے سمندری حیات خصوصاً فائٹوپلانکٹن کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: انٹارکٹکا میں پرندوں سے ملنے والے برڈ فلو وائرس کا جینیاتی کوڈ تیار

ماہرین کے مطابق اس نئی تحقیق سے انٹارکٹکا میں 2016 کے بعد تیزی سے کم ہونے والی سمندری برف کی وجوہات سمجھنے میں مدد ملے گی، جبکہ مستقبل میں بحری تحقیق، موسمیاتی پیش گوئی اور سمندری سفر کی منصوبہ بندی بھی زیادہ مؤثر ہو سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp