امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت شرائط سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد حتمی فیصلہ کرنے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران مجوزہ معاہدہ: ٹرمپ کی حتمی منظوری تاحال باقی، جوہری نکات پر مذاکرات جاری، سی این این کا دعویٰ
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو واضح طور پر اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ہر قسم کی پابندی اور ٹول ٹیکس کے بغیر دونوں سمتوں میں جہاز رانی کے لیے کھولا جائے۔
مزید پڑھیے: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی جانب سے ایران کے خلاف نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی اب ختم کی جا سکتی ہے جبکہ سمندری راستوں میں موجود بارودی سرنگوں کو فوری طور پر ہٹانے یا ناکارہ بنانے کی ذمہ داری ایران پر ہوگی۔
"Iran must agree that they will never have a Nuclear Weapon or Bomb… I will be meeting now, in the Situation Room, to make a final determination." – President Donald J. Trump 🇺🇸 pic.twitter.com/qJTBbkrSr4
— The White House (@WhiteHouse) May 29, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بی ٹو بمبار حملے کے بعد زیر زمین دبے افزودہ جوہری مواد کو امریکا، ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے نکال کر مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔
دریں اثنا سی این بی سی کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں بعض اہم نکات پر ابتدائی اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم کسی بھی مالی لین دین کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی رہے گی‘ ٹرمپ کی عمان کو دھمکی
انہوں نے مزید کہا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس کر رہے ہیں جہاں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔














