فرانس کے سرکاری پراسیکیوٹرز نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کے فرانسیسی کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فورسز کے ناروا سلوک کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کی روک تھام کی شدید مذمت، عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ ترکیے میں فرانسیسی قونصل جنرل کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا جس میں فرانسیسی شہریوں پر جنسی تشدد، مار پیٹ، سرد موسم میں رکھنے اور بار بار تذلیل جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 2 ہفتے قبل ترکیہ کے شہر مارمارس سے روانہ ہونے والے 50 سے زائد امدادی جہازوں کو اسرائیلی فورسز نے 19 مئی کو قبرص کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا۔ ان کشتیوں میں تقریباً 40 ممالک کے 400 سے زائد کارکن سوار تھے جنہیں حراست میں لینے کے بعد بعدازاں ملک بدر کر دیا گیا۔
مزید پڑھیے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ قابل مذمت، پاکستان کا عالمی برادری سے ایکشن کا مطالبہ
37 فرانسیسی کارکنوں نے اپنی گرفتاری کو انتہائی پرتشدد، تضحیک آمیز اور غیر انسانی قرار دیا۔ ایک خاتون کارکن نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کی جبکہ دیگر نے مار پیٹ، تشدد اور نسلی امتیاز پر مبنی سلوک کی شکایات درج کرائیں۔
اسرائیلی حکام نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے تشدد یا بدسلوکی سے انکار کیا ہے تاہم فرانس سمیت کئی ممالک نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو ایسے واقعات دوبارہ رونما ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔














