خواجہ آصف کا لیسکو پر سنگین الزامات، ٹرانسفارمر مرمت کے نام پر 80 ہزار روپے وصول کرنے کا دعویٰ

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنی لیسکو کے بعض اہلکاروں کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں جل جانے والے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے اہلکاروں نے 80 ہزار روپے وصول کیے، مگر اس رقم کی کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک وفاقی وزیر کی سفارش کے باوجود یہ صورتحال ہے تو عام صارفین کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

https://x.com/KhawajaMAsif/status/2060790268518146090

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر مکمل طور پر جل گیا تھا، جس پر انہوں نے لیسکو کے ایک سابق چیف ایگزیکٹو افسر سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ متعلقہ عملے کو مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی جائے۔

خواجہ آصف کے مطابق لیسکو کے اہلکاروں نے ٹرانسفارمر کی مرمت تو کر دی، تاہم اس کے عوض 80 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاؤں کے لوگوں نے چندہ جمع کرکے یہ رقم ادا کی، لیکن کسی فرد کو اس ادائیگی کی کوئی رسید نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:واپڈا کی پن بجلی کی پیداوار پیک آورز کے دوران 6ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگئی

وزیر دفاع نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بعد ازاں لیسکو نے رسید نہ ہونے کی بنیاد پر اس ادائیگی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رقم نقد ادا کی گئی تھی اور مقامی افراد اس کے گواہ ہیں، تاہم سرکاری دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ متنازع بن گیا ہے۔

خواجہ آصف نے اس واقعے کو بجلی کے شعبے میں موجود مسائل کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک سابق وفاقی وزیرِ توانائی، جو اس وقت بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، کی سفارش کے باوجود اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو عام صارفین کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ خواجہ آصف کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مبینہ بدعنوانی، غیر رسمی وصولیوں اور صارفین کو درپیش مسائل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاہم اس معاملے پر لیسکو کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp