اے آئی انقلاب میں چین کا کون سا خفیہ ہتھیار کام کر رہا ہے؟

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی دوڑ میں اگرچہ امریکا جدید ترین سیمی کنڈکٹرز اور چپس تک رسائی کے باعث برتری رکھتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق چین ایک ایسے شعبے میں واضح سبقت حاصل کر چکا ہے جو اے آئی کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے: سستی اور وافر بجلی۔ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی پیداوار، قابلِ تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اسے اے آئی انفراسٹرکچر کی جنگ میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی قیادت کے لیے جاری مسابقت میں امریکا اور چین مختلف محاذوں پر اپنی طاقت آزما رہے ہیں۔ جدید ترین چپس اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکا اب بھی نمایاں برتری رکھتا ہے، لیکن اے آئی ماڈلز کو چلانے والے وسیع ڈیٹا سینٹرز کو توانائی فراہم کرنے کے معاملے میں چین ایک منفرد اور فیصلہ کن فائدہ حاصل کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی اب صرف چپس یا سافٹ ویئر کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ توانائی کی دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔ جدید ڈیٹا سینٹرز، جہاں اے آئی ماڈلز کی تربیت اور آپریشن انجام پاتے ہیں، بے پناہ مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق ایک عام ڈیٹا سینٹر تقریباً ایک لاکھ گھروں کے برابر بجلی استعمال کر سکتا ہے، جبکہ نئی نسل کے ’ہائپر اسکیل‘ مراکز کی توانائی کی ضرورت 20 لاکھ گھروں تک کے مساوی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے چین میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین تزویراتی اثاثہ قرار، بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد

یہی وہ شعبہ ہے جہاں چین کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ چین اس وقت امریکا کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے اور سرکاری سطح پر توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث یہ فرق آئندہ برسوں میں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

تحقیقی ادارے بلومبرگ این ای ایف کے مطابق اگلے 5 برسوں میں چین امریکا کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل کرے گا۔ اس اضافی صلاحیت کا بڑا حصہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوگا۔ صرف 2025 کے دوران چین نے 430 گیگاواٹ سے زائد شمسی اور ہوائی توانائی کی صلاحیت شامل کی، جو اس سال دنیا بھر میں نصب ہونے والی نئی قابلِ تجدید توانائی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہے۔

چین کی اے آئی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ڈیٹا سینٹرز کو قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں سے جوڑنا ہے۔ ’ایسٹ ڈیٹا، ویسٹ کمپیوٹنگ‘ منصوبے کے تحت حکومت ملک کے مغربی اور کم آبادی والے علاقوں میں نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کر رہی ہے، جہاں زمین نسبتاً سستی اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل وافر ہیں۔

اسی ماہ چین نے اعلان کیا کہ ملک کا پہلا بڑا قابلِ تجدید توانائی منصوبہ، جو براہِ راست ایک ڈیٹا سینٹر سے منسلک ہے، عملی طور پر کام شروع کر چکا ہے۔ شمال مغربی علاقے ننگشیا میں قائم 500 میگاواٹ کے شمسی اور ہوائی توانائی منصوبے سے ایک کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر کو خصوصی ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

چین کی رین من یونیورسٹی میں اے آئی اور توانائی پالیسی کے ماہر محقق چی یانگ شیونگ کے مطابق مستقبل میں وہی ملک مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر میں کامیاب ہوگا جو سستی، مستحکم اور کم کاربن بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کے بقول چین شمسی توانائی، ہوائی توانائی اور انتہائی بلند وولٹیج ٹرانسمیشن ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بن چکا ہے، جس کی بدولت وہ مغربی علاقوں میں قائم ڈیٹا سینٹرز کو نسبتاً کم لاگت پر صاف توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ امریکا اب بھی ڈیٹا سینٹرز کی تعداد کے لحاظ سے واضح برتری رکھتا ہے، تاہم چین تیزی سے اس خلا کو کم کر رہا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اے آئی انڈیکس کے مطابق 2025 میں امریکا میں تقریباً 5,427 ڈیٹا سینٹرز موجود تھے، جبکہ چین میں ان کی تعداد 449 تھی۔ تاہم چینی اداروں کی جانب سے مسلسل توسیع کے باعث یہ فرق تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے مطابق 2016 سے 2023 کے دوران ملک میں ڈیٹا سینٹر ریکس کی تعداد میں اوسطاً 30 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ توانائی کے تحقیقی ادارے رائسٹاڈ انرجی کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین کی ڈیٹا سینٹر صلاحیت 60 گیگاواٹ تک پہنچ جائے گی، جو موجودہ سطح سے تقریباً دوگنا ہے۔

امریکی پابندیوں کے باعث چین کو جدید ترین این ویڈیا چپس تک محدود رسائی حاصل ہے، لہٰذا وہ مقامی کمپنیوں، خصوصاً ہواوے اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ انٹرنیشنل کارپوریشن (SMIC)، پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی مضبوط مینوفیکچرنگ بنیاد اور نسبتاً نرم ضابطہ جاتی ماحول اسے امریکا کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

کیپٹل اکنامکس کی سینئر ماہر معاشیات لیہ فاہی کے مطابق ہواوے کے ماڈیولر ڈیٹا سینٹرز صرف 6 ماہ میں تیار ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکا میں اسی نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کم از کم ایک سال لگ جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کو توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ توانائی مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کے مطابق 2025 کے اختتام پر امریکی پاور گرڈ کی محدود صلاحیت کے باعث نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں سہ ماہی بنیادوں پر 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ امریکا میں مقامی آبادی بھی نئے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کر رہی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے مقامی بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ تحقیقی ادارے ڈیٹا سینٹر واچ کے مطابق مئی 2024 سے جون 2025 کے درمیان امریکا میں کم از کم 36 ڈیٹا سینٹر منصوبے روک دیے گئے یا تاخیر کا شکار ہوئے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا کی کئی معروف شخصیات بھی اس معاملے میں چین کی برتری تسلیم کر چکی ہیں۔ ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے رواں سال جنوری میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بجلی ہے۔ ان کے بقول جلد ہی دنیا میں چپس کی پیداوار ان کے استعمال کی صلاحیت سے زیادہ ہو جائے گی، سوائے چین کے، کیونکہ وہاں بجلی کی پیداوار غیرمعمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے آئی ایم ڈی بزنس اسکول سے وابستہ ماہر ہاورڈ یو کے مطابق اب اے آئی کی ترقی چپس کے ساتھ ساتھ بجلی کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوڑ کے حقیقی فاتح وہ ہوں گے جن کے پاس چپس، توانائی کے معاہدے اور کولنگ کے لیے پانی کی فراہمی ہوگی، اور چین نے اپنی حکمتِ عملی انہی وسائل کے گرد ترتیب دی ہے جن پر اس کا کنٹرول مضبوط ہے۔

تاہم چین کی برتری کے باوجود بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ ملک کے بیشتر ڈیٹا سینٹر اب بھی بیجنگ، شنگھائی، گوانگ ژو اور شین ژین جیسے بڑے شہروں کے اطراف قائم ہیں، جہاں بجلی کی فراہمی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور بعض علاقوں میں نئے ڈیٹا سینٹرز پر پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ہواوے کا نئی اسمارٹ فون چِپ لانچ کرنے کا اعلان، اینویڈیا اور ایپل سے مقابلہ مزید تیز

آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے محقق اینڈرز ہوو کے مطابق چین کا پاور گرڈ بھی مکمل طور پر مربوط نہیں ہے اور مختلف صوبوں کے درمیان بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں موجود ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں توانائی کا مؤثر تبادلہ ابھی تک ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

علاوہ ازیں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں تیزی سے تعمیر ہونے والے بعض ڈیٹا سینٹرز معیار کے مسائل کا شکار بھی ہیں۔ بروکنگز انسٹیٹیوشن کے محقق کائل چان کے مطابق کئی منصوبوں میں پیچیدہ اے آئی ورک لوڈز کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مطلوبہ معیار اور تجربے کا فقدان پایا جاتا ہے۔

اس کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اے آئی کی عالمی دوڑ ایک دلچسپ توازن کی شکل اختیار کر چکی ہے: امریکا کے پاس دنیا کی جدید ترین چپس ہیں مگر توانائی کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ چین کے پاس وافر اور سستی بجلی موجود ہے مگر وہ اب بھی جدید چپس کے میدان میں خلا کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں طاقتیں اپنی اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں، اور مستقبل کی اے آئی قیادت کا فیصلہ شاید اسی مقابلے سے ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp