چین میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین تزویراتی اثاثہ قرار، بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 چین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے سے وابستہ بعض سینیئر ماہرین کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں، جن میں علی بابا اور ڈیپ سیک جیسے بڑے نجی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں اسٹارٹ اپ بانیوں، محققین اور ایگزیکٹوز پر لاگو کی جا رہی ہیں جنہیں چین کے اے آئی اہداف کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی ڈیپ سیک کے نئے مصنوعی ذہانت ماڈل وی 4 کی تیاری مکمل، لانچنگ کب ہوگی؟

 چینی حکام اے آئی ماہر افراد کو ان کی کمپنی یا عہدے کے بجائے ان کی ‘تزویراتی اہمیت’ کی بنیاد پر فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔

   رپورٹ کے مطابق ان ماہرین کو بیرون ملک سفر سے قبل حکومتی اجازت لینا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس اقدام کا مقصد چین کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اے آئی شعبے میں اہم ٹیلنٹ کو برقراررکھنا بتایا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ انجینئرز اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لیے ایک تزویراتی اثاثہ بن چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں زیادہ تر اعلیٰ معیار کا اے آئی ٹیلنٹ چیٹ جی پی ٹی کے بعد کے دور میں سامنے آیا ہے، جو زیادہ تر بڑی ٹیک کمپنیوں اور نجی اسٹارٹ اپس میں کام کر رہا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس طرح کی پابندیاں اے آئی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے اور برقرار رکھنے میں مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp