چین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے سے وابستہ بعض سینیئر ماہرین کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں، جن میں علی بابا اور ڈیپ سیک جیسے بڑے نجی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں اسٹارٹ اپ بانیوں، محققین اور ایگزیکٹوز پر لاگو کی جا رہی ہیں جنہیں چین کے اے آئی اہداف کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی ڈیپ سیک کے نئے مصنوعی ذہانت ماڈل وی 4 کی تیاری مکمل، لانچنگ کب ہوگی؟
چینی حکام اے آئی ماہر افراد کو ان کی کمپنی یا عہدے کے بجائے ان کی ‘تزویراتی اہمیت’ کی بنیاد پر فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ماہرین کو بیرون ملک سفر سے قبل حکومتی اجازت لینا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
👀 #China is reportedly limiting overseas travel for top #AI talent at #Alibaba, #DeepSeek and other firms. A policy once aimed at state sectors may now be reaching private companies. Strategic asset protection? 💡More: https://t.co/OMFE5xDxM6 🔗
— TrendForce (@trendforce) May 27, 2026
اس اقدام کا مقصد چین کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اے آئی شعبے میں اہم ٹیلنٹ کو برقراررکھنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ انجینئرز اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لیے ایک تزویراتی اثاثہ بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں زیادہ تر اعلیٰ معیار کا اے آئی ٹیلنٹ چیٹ جی پی ٹی کے بعد کے دور میں سامنے آیا ہے، جو زیادہ تر بڑی ٹیک کمپنیوں اور نجی اسٹارٹ اپس میں کام کر رہا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس طرح کی پابندیاں اے آئی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے اور برقرار رکھنے میں مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہیں۔














