جہلم میں وزیراعلیٰ شکایات سیل کی جعلی چیئرپرسن بن کر سرکاری پروٹوکول اور سہولیات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی ایک خاتون کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے خود کو وزیراعلیٰ شکایات سیل کی چیئرپرسن ظاہر کیا، تاہم جانچ پڑتال کے بعد اس کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:’پنجاب پولیس پاکستان ایپ‘ گمشدہ دستاویزات کی رپورٹ اب گھر بیٹھے ممکن
جہلم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب شکایات سیل کی جعلی چیئرپرسن بننے والی خاتون مہناز سعید کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے جہلم سٹی پولیس کو خود کو وزیراعلیٰ شکایات سیل کی چیئرپرسن کے طور پر تعارف کرایا اور سرکاری پروٹوکول و خصوصی سہولیات کا مطالبہ کیا۔
ترجمان جہلم پولیس کے مطابق ملزمہ کے دعوے پر شک ہونے پر متعلقہ وزیراعلیٰ شکایات سیل سے رابطہ کیا گیا، جہاں سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مہناز سعید کا اس عہدے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ خود کو جعلی طور پر ظاہر کر رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق جعلسازی ثابت ہونے پر ملزمہ کو اس کے ایک ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران ان کی گاڑی سے مبینہ طور پر شراب بھی برآمد ہوئی ہے، جس پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری
ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزمہ نے پولیس سے سرکاری پروٹوکول اور سہولیات کی ڈیمانڈ بھی کی تھی، جس سے اس کے دعوؤں پر مزید شبہات پیدا ہوئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ملزمہ کا تعلق مظفرگڑھ سے بتایا جا رہا ہے اور بعض ذرائع کے مطابق اس کا سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے بھی تعلق ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔














