آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے 5 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تنخواہ دار طبقے کو ممکنہ ریلیف دینے کے اشارے دیے ہیں تاہم آئی ایم ایف کی سخت شرائط، محصولات کے بلند اہداف اور توانائی کے شعبے میں سبسڈی کے خاتمے جیسے چیلنجز بجٹ سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ بجٹ عوامی ریلیف اور مالیاتی نظم و ضبط کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک اہم آزمائش ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2026-27: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ
بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں آئی ایم ایف کا وفد حالیہ دنوں میں پاکستان میں موجود رہا جہاں وزارتِ خزانہ اور دیگر حکام کے ساتھ بجٹ حکمتِ عملی، ٹیکس اہداف اور مالیاتی اصلاحات پر تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ اگرچہ متعدد امور پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن کئی اہم معاملات تاحال زیرِ غور ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے اشارے دیے ہیں جبکہ وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے لیے تنخواہوں اور پینشن میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز بھی تیار کر لی ہیں۔
معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر کے مطابق حکومت نے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کے لیے تنخواہوں اور پینشن میں 5، 7.5 اور 10 فیصد اضافے کی 3 مختلف تجاویز تیار کی ہیں جنہیں ایڈہاک الاؤنسز کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز کو مہنگائی کی شرح، یعنی کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک کیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے دوران اوسطاً تقریباً 7.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: بجٹ 27-2026 :سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس 5 جون بروز جمعہ طلب
مہتاب اکبر کا کہنا تھا کہ دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کی تنخواہوں اور پینشن میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے تاہم محدود مالی گنجائش اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث اس تجویز پر عملدرآمد آسان دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ سے مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پینشن نظام متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ سول ملازمین میں نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے یہ نظام گزشتہ بجٹ سے پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے لہٰذا توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ تقریر کے دوران اس اہم فیصلے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
بجٹ تیاریوں میں سب سے اہم اور حساس معاملہ ٹیکسوں کا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس کی عمومی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کی جائے تاکہ محصولات میں اضافی 250 سے 300 ارب روپے حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے تاحال اس تجویز کی مزاحمت کی ہے کیونکہ ان کے مطابق اس اقدام سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
مزید پڑھیں: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو رواں مالی سال کے محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے باعث اضافی ریونیو کے حصول کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی وصولیاں 13 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچنے کا امکان ہے تاہم مقررہ ہدف کا مکمل حصول اب بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات تنخواہ دار طبقے کو ممکنہ ریلیف، برآمد کنندگان پر عائد ایک فیصد اضافی ٹیکس کے خاتمے اور ان اقدامات سے پیدا ہونے والے مالی خلا کو پُر کرنے کے طریقہ کار پر برقرار ہیں۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی اور کم از کم ایک فیصد انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجاویز پیش کی ہیں تاہم آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے ریونیو تخمینوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ان اقدامات سے قومی خزانے پر تقریباً 200 ارب روپے کا مالی اثر پڑے گا مگر آئی ایم ایف اس تخمینے سے متفق نہیں اور اسے زیادہ محتاط انداز میں دیکھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کا آغاز
شہباز رانا کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کے محصولات کا ہدف تقریباً 15.264 کھرب روپے مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم آئی ایم ایف نے اضافی 430 ارب روپے کی متوقع آمدن سے متعلق حکومتی تجاویز کو ناکافی قرار دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محصولات کا ہدف حاصل نہ ہو سکا تو ریونیو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق بجلی اور گیس کے شعبے میں بھی سخت فیصلے متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں لاگت کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا جائے اور بلاامتیاز سبسڈیز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حکومت آئندہ مالی سال میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں سے لگ بھگ 830 ارب روپے پاور سیکٹر کے لیے رکھے جانے کا امکان ہے تاہم توانائی نرخوں میں اضافے اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے دباؤ کے برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق
شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف نے شرح مبادلہ میں مزید لچک، سخت مالیاتی پالیسی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر اور دیگر سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جبکہ حکومت پر مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اصلاحاتی اہداف پورے کرنے کا دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
حکومت ریٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار رکھنے والے دکانداروں سے 25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے جبکہ انہیں معمول کے آڈٹ سے استثنا حاصل ہوگا۔ تاہم سنگین بے ضابطگی یا ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایف بی آر کو کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔
آٹو سیکٹر میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ آئی ایم ایف نے ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی جی ایس ٹی شرح ختم کرکے اسے معیاری شرح کے قریب لانے کی تجویز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی، منی لانڈرنگ اور سرمایہ کاری تعاون پر تبادلہ خیال
اس وقت 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد جبکہ 1801 سے 2500 سی سی تک کی گاڑیوں پر 12.75 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے جس میں ممکنہ ردوبدل آئندہ بجٹ کا حصہ بن سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر آئندہ بجٹ ’ریلیف اور سختی‘ُ کا امتزاج ہوگا۔ ایک جانب تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ممکنہ اضافہ اور بعض ٹیکسوں میں نرمی کی کوششیں متوقع ہیں جبکہ دوسری جانب محصولات میں اضافے، سبسڈیز میں کمی، توانائی نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ اور نئے ریونیو اقدامات کا امکان بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیے: آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جس کے باعث پارلیمانی منظوری سے قبل یا اس کے بعد آخری وقت میں مزید تبدیلیاں سامنے آنے کا امکان برقرار رہے گا۔












