’ورلڈ پیس فورم‘ میں پاکستان کی سفارت کاری کو خراج تحسین، مشاہد حسین نے نئے عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیدیا

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممتاز چینی جامعہ سنگھوا یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’ورلڈ پیس فورم‘ میں مقررین نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی فعال سفارت کاری کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے ایک اہم قوت قرار دیا۔

سینیئر سیاستدان سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب کی قیادت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام دہرے معیار کے باعث بکھر رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ گلوبل ساؤتھ ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھے۔

ورلڈ پیس فورم سے چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے افتتاحی خطاب کیا، جس کے بعد سینیٹر مشاہد حسین سید نے قریباً 30 ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین سے کلیدی خطاب کیا۔

فورم سے انڈونیشیا اور سربیا کے سابق وزرائے خارجہ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان کی سفارت کاری کو امن کے لیے اہم قرار

فورم کے مقررین نے کہاکہ پاکستان کی متحرک سفارت کاری مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے طاقت کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ مغرب کی قیادت میں قائم عالمی نظام نہ تو حقیقی معنوں میں عالمی نظم قائم کر سکا اور نہ ہی یہ مساوی اصولوں پر مبنی تھا، کیونکہ اس میں دُہرے معیار اپنائے گئے۔

انہوں نے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ گلوبل ساؤتھ ایک نئے اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان چین تعلقات کے 75 سال

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ سال 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی شراکت داری کی علامت ہے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ہمسایہ ممالک اب آئرن برادرز بن چکے ہیں اور ان کے تعلقات کی وسعت اور گہرائی کی حالیہ بین الاقوامی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے 2026 سے 2030 تک کے لیے پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک ورک پلان کا بھی ذکر کیا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط، وسیع اور مؤثر بنانے کا جامع خاکہ قرار دیا۔

چین کی سفارت کاری اور عالمی کردار کی تعریف

مشاہد حسین سید نے چین کی پرامن ترقی کو سراہتے ہوئے کہاکہ پانچ ہزار سالہ تہذیب کا حامل یہ ملک کسی جارحیت، قبضے یا نوآبادیاتی طرزِ عمل کے بغیر عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے اور آج امریکا کے ہم پلہ عالمی قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مئی میں اپنے دورۂ چین کے دوران چین اور امریکا کے تعلقات کو ’جی ٹو‘ قرار دے کر اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا۔

چین نے ایک گولی چلائے بغیر دو جنگیں جیتیں

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین کی کامیاب سفارت کاری کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے ایک سال کے دوران بغیر ایک بھی گولی چلائے دو جنگیں جیتیں۔

انہوں نے اس تناظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جنوبی ایشیا میں چینی ٹیکنالوجی نے مغربی ٹیکنالوجی پر برتری ثابت کی، جبکہ خلیجی تنازع کے بعد بھی تمام فریق چین پر اعتماد کرتے ہیں۔

آسیان کی کامیابی اور سارک کی ناکامی کی وجوہات

جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون پر بات کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے آسیان اور سارک کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ آسیان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انڈونیشیا نے بڑے ملک ہونے کے باوجود برابری، احترام اور باہمی تعاون کی پالیسی اپنائی، جبکہ بھارت نے سارک میں اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث یہ تنظیم مؤثر کردار ادا نہ کر سکی۔

اس موقع پر پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر اور سابق بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن بھی سامعین میں موجود تھے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں بطور طالب علم اپنے پہلے دورۂ چین کو یاد کرتے ہوئے چیئرمین ماؤ زے تنگ کا قول دہرایا:

’اس دنیا میں کوئی چیز مشکل نہیں، اگر تم بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو۔‘ ان کے اس اقتباس کو شرکا نے بھرپور انداز میں سراہا۔

غربت کے خاتمے پر خصوصی کانفرنس میں شرکت

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے (آئی ڈی سی پی سی) کی دعوت پر مغربی چین کے علاقے ننگشیا میں ’شی جن پنگ فکر اور غربت کے خاتمے‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے کرغزستان، نیپال، کمبوڈیا اور چین کے مندوبین کے درمیان مکالمے کی صدارت کی۔

انہوں نے کہاکہ چین نے گزشتہ 40 برسوں میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکال کر دنیا کے سامنے ایک غیر معمولی مثال قائم کی اور ملک سے انتہائی غربت کا تقریباً خاتمہ کردیا۔

اس کانفرنس میں ایشیا، افریقہ، یورپ، لاطینی امریکا اور شمالی امریکا سمیت پانچ براعظموں سے تعلق رکھنے والے قریباً 150 سیاسی رہنماؤں، دانشوروں، میڈیا نمائندوں اور تھنک ٹینکس کے ارکان نے شرکت کی۔

چینی قیادت سے ملاقاتیں

دورۂ چین کے دوران سینیٹر مشاہد حسین سید نے چین کے نائب صدر ہان ژینگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp