ایف بی آر نے 11 ماہ میں 99.8 فیصد ہدف حاصل کر لیا، مالی بحران کی خبروں کی تردید

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے بعض میڈیا رپورٹس میں زیر گردش 864 ارب روپے کے مبینہ ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے دعوے موجودہ مالی حقائق اور نظرثانی شدہ

مالیاتی فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتے۔

حکام کے مطابق مالی سال 26-2025 کے آغاز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے 14 ہزار 130 ارب روپے کا محصولات ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم یہ ہدف مختلف معاشی مفروضوں کی بنیاد پر

طے کیا جاتا ہے جن میں جی ڈی پی کی شرح نمو، افراط زر، درآمدات، بڑی صنعتوں کی پیداوار، شرح مبادلہ اور پالیسی ریٹ شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق معاشی حالات میں تبدیلی کے ساتھ ان مفروضوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مالیاتی تخمینوں میں ضروری ردوبدل کیا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں حکومت اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے محصولات کے سالانہ ہدف کو تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ افراط زر میں اتار چڑھاؤ، روپے کی مضبوط قدر، معاشی نمو کے بدلتے رجحانات، سیلاب جیسے داخلی چیلنجز اور امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے باعث

توانائی و اجناس کی قیمتوں میں اضافے جیسے بین الاقوامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے مئی 2026 میں 994 ارب روپے محصولات جمع کیے جو ماہانہ ہدف کا 97 فیصد ہے۔

مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران مجموعی وصولیاں 11 ہزار 257 ارب روپے رہیں، جو مقررہ ہدف کا 99.8 فیصد بنتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسی بڑے ریونیو بحران، محصولات کی شدید کمی یا مالیاتی دباؤ کی نشاندہی نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ

ان کے مطابق جون 2026 کا محصولات ہدف بھی نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کے تحت مقرر کیا گیا ہے، نہ کہ ابتدائی اور اب غیر متعلق ہو چکے تخمینوں کی بنیاد پر۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جون 2025 میں ایف بی آر نے ایک ہزار 502 ارب روپے محصولات اکٹھے کیے تھے، جبکہ جون 2026 کے لیے ایک ہزار 727 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جس کے لیے تقریباً 15 فیصد نمو درکار ہے اور یہ نظرثانی شدہ سالانہ ہدف کے حصول کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟

حکام نے کاروباری برادری، سرمایہ کاروں، صنعتوں اور ٹیکس دہندگان کو یقین دہانی کرائی کہ مبینہ بڑے ریونیو گیپ کے باعث کسی اضافی یا غیر معمولی ٹیکس وصولی مہم، سخت نفاذی اقدامات

یا ہنگامی مالیاتی فیصلوں کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی امور پر تبصرہ کرتے وقت پرانے اور غیر متعلق اعداد و شمار کے بجائے تازہ سرکاری معلومات اور موجودہ معاشی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ مالیاتی صورتحال کی درست تصویر سامنے آسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp