محرم الحرام کے مقدس مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی رواں ماہ کے آخر میں ملک بھر میں 2 روزہ سرکاری تعطیلات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تعطیلات کا باضابطہ اور حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند نظر آنے کے فیصلے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ابتدائی فلکیاتی اندازوں اور ماہرینِ فلکیات کی پیش گوئی کے مطابق 9 اور 10 محرم الحرام، یعنی یومِ عاشور، 24 اور 25 جون 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:10 محرم الحرام پر اسلام آباد میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 4000 سے زائد اہلکار تعینات
حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہی تاریخوں پر ملک بھر میں عام تعطیلات دیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے، لیکن ان تاریخوں کی حتمی تصدیق محرم الحرام کا چاند نظر آنے پر ہی ممکن ہوگی۔ چاند کی رویت کے فوراً بعد وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
دیرینہ روایت کے مطابق وفاقی حکومت 9 اور 10 محرم کو ملک بھر میں عام تعطیلات کا اعلان کرتی ہے، جس دوران تمام سرکاری و نجی دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔
دوسری جانب وزارتِ داخلہ اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں عزاداری کے جلوسوں کے روٹس پر کاروباری مراکز جزوی یا مکمل طور پر بند رکھے جائیں گے، جبکہ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ’سیکیورٹی پلان‘ بھی مرتب کیے جا رہے ہیں۔
محرم الحرام کی اہمیت
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جو پوری مسلم امہ، بالخصوص پاکستان میں انتہائی احترام اور مذہبی عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یومِ عاشور (10 محرم) کو نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی کربلا میں دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں مجالس اور ماتمی جلوس منعقد کیے جاتے ہیں۔
ماضی کی تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان ایام میں امن و امان کا قیام اور عزاداروں کا تحفظ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت نہ صرف عام تعطیلات کا اعلان کرتی ہے تاکہ شہری مذہبی رسومات میں محفوظ طریقے سے شرکت کر سکیں، بلکہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے حساس شہروں میں موبائل فون سروسز کی جزوی معطلی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی جیسے اقدامات بھی پس منظر کا حصہ رہے ہیں۔
انتظامی چوکسی اور پیشگی منصوبہ بندی
فلکیاتی تاریخوں (24 اور 25 جون) کے مطابق سیکیورٹی اور تعطیلات کی تیاری ظاہر کرتی ہے کہ انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وقت سے پہلے متحرک ہو چکی ہے۔
کاروباری سرگرمیوں پر اثرات
جون کا مہینہ مالیاتی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے جس میں کلوزنگ اور بجٹ کے معاملات چل رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں لگاتار 2 روز کی سرکاری تعطیلات اور جلوسوں کے روٹس پر کاروباری مراکز کی جزوی یا مکمل بندش سے معاشی و تجارتی سرگرمیوں کی رفتار عارضی طور پر سست ہو سکتی ہے، جس کے لیے بینکوں اور نجی اداروں کو پیشگی حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔
مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت
چونکہ ملک بھر میں سیکیورٹی پلان مرتب کیے جا رہے ہیں، اس لیے یہ واضح ہے کہ حکومت سیکیورٹی معاملات پر کڑی نظر رکھنے کا عزم رکھتی ہے تاکہ محرم الحرام کا مہینہ پرامن طریقے سے گزر سکے۔














