افغانستان میں طالبان قیادت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سرحد پار حملے روکنے کی مبینہ ہدایت کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دوطرفہ اعتماد کی بحالی کے لیے محض اعلانات نہیں بلکہ قابلِ تصدیق عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ مثبت تعلقات اور علاقائی تعاون کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کا پاکستان مخالف دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی، کے زیرِ استعمال رہنا دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی خبروں کی تردید، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ جعلی قرار
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آیا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے اور جب تک دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، دوطرفہ اعتماد اور سرحدی استحکام کا حصول مشکل رہے گا۔
حکام کے مطابق پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود سفارتی رابطوں، سیاسی مکالمے اور علاقائی تعاون کی پالیسی جاری رکھی ہے۔ اسلام آباد کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کے لیے مشترکہ سیکیورٹی ذمہ داری اور دہشتگردی کے خلاف واضح اقدامات ضروری ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ علاقائی تجارت، اقتصادی رابطہ کاری اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کے منصوبوں کی کامیابی بھی امن و استحکام سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار دہشتگردی کے ماحول میں اقتصادی تعاون اور علاقائی انضمام کے اہداف حاصل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا حامی ہے، تاہم اپنے شہریوں کی سلامتی اور قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ: مذہبی قیادت کہاں کھڑی ہے؟
سفارتی حلقوں کے مطابق عالمی برادری کو بھی افغانستان میں پیشرفت کا جائزہ سیاسی بیانات کے بجائے دہشتگردی کے خلاف زمینی اور قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر لینا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار تعاون کا راستہ باہمی خودمختاری کے احترام، مشترکہ سکیورٹی ذمہ داری اور دہشتگرد گروہوں کو کسی بھی قسم کی محفوظ پناہ گاہ نہ دینے کے عملی عزم سے ہو کر گزرتا ہے۔














