پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ 2021 سے اب تک بازیاب ہونے والی لاپتا خواتین اور لڑکیوں میں سے قریباً 80 فیصد نے اپنی پسند سے شادیاں کی تھیں، جس کے بعد مبینہ اغوا کاروں کے خلاف درج اغوا کے مقدمات خارج کر دیے گئے۔

مزید پڑھیں: دہلی میں لاپتا لڑکیوں کی افواہیں، مردانی 3 کے فلم سازوں کی تردید کیوں کرنی پڑی؟

یہ انکشاف پنجاب پولیس کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 22 اپریل 2026 تک صوبے بھر میں 3,258 خواتین اور لڑکیوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات درج کی گئیں، جن میں سے 1,405 کو بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ 1,853 تاحال لاپتا ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بڑی تعداد میں خواتین اور لڑکیوں کی عدم بازیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

عدالت قصور کی رہائشی سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ان کی مبینہ طور پر اغوا ہونے والی بیٹی مقدس کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق 4 سال قبل ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا تھا اور پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ تو درج کیا، تاہم نہ ملزمان گرفتار ہوئے اور نہ ہی لڑکی بازیاب ہو سکی۔

سماعت کے دوران ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شعیب جان باز اور دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے اور انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 سے اب تک لاپتا خواتین اور لڑکیوں کے 105,244 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 103,351 مقدمات بازیابی کے بعد نمٹا دیے گئے، جبکہ 1,847 مقدمات ابھی زیر التوا ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں کی عدم بازیابی پنجاب پولیس کی ناقص کارکردگی کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی پولیس نے لاپتا 5 لڑکیاں بازیاب کرلیں

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے عدالت کو بتایا کہ بازیاب ہونے والی لڑکیوں میں سے قریباً 80 فیصد نے اپنی مرضی سے شادیاں کیں، جس کے بعد مبینہ اغوا کاروں کے خلاف درج مقدمات ختم کر دیے گئے۔ ان کے مطابق قریباً 15 فیصد لڑکیاں رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں کو واپس آئیں اور اپنے والدین کے حق میں بیانات ریکارڈ کرائے۔

پولیس حکام نے باقی لاپتا لڑکیوں کی بازیابی کے لیے مزید 2 ماہ کی مہلت طلب کی، تاہم چیف جسٹس نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کئی برس گزر چکے ہیں اور مزید نرمی کی گنجائش نہیں۔

عدالت نے پولیس حکام کو 15 روز کے اندر جامع پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 18 جون تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp