معاشی ترقی کو عموماً شرحِ نمو، برآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور مالیاتی اشاریوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معیشت صرف مالیاتی اور کاروباری عمل کا نام نہیں، بلکہ کسی بھی ملک کی معاشی سمت کا تعین اس کی گورننس، ادارہ جاتی کارکردگی، پالیسی پر عملدرآمد اور ریاستی نظام کی استعداد سے کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اب “Good Governance” کو معاشی ترقی کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اکثر ممالک میں معاشی اصلاحات کے دوران ٹیکس، نجکاری، سرمایہ کاری یا مالیاتی پالیسیوں پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن اگر گورننس کے نظام کو بہتر نہ بنایا جائے تو یہ اصلاحات مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتیں۔ کمزور گورننس ایک ایسی رکاوٹ بن جاتی ہے جو اچھی معاشی پالیسیوں کے اثرات کو بھی محدود کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ معیشت اب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشی اصلاحات اور طرز حکمرانی میں اصلاحات کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
دنیا کی کئی کامیاب معیشتوں نے اس حقیقت کو وقت پر سمجھ لیا تھا۔ سنگاپور نے محدود وسائل کے باوجود مضبوط ادارہ جاتی نظم، شفافیت، تیز فیصلہ سازی اور مؤثر سرکاری نظام کے ذریعے خود کو عالمی معاشی مرکز میں تبدیل کیا۔
چین نے صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ریاستی عملدرآمد کی رفتار کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے انفراسٹرکچر اور صنعتی منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہوتے رہے۔ اسی طرح ایستونیا نے ای گورننس اور ڈیجیٹل ریاستی نظام کے ذریعے سرکاری خدمات کو تیز، شفاف اور مؤثر بنایا۔
معاشی ترقی میں گورننس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار صرف مراعات یا ٹیکس میں چھوٹ نہیں دیکھتے، بلکہ وہ یہ بھی جانچتے ہیں کہ سرکاری نظام کس حد تک مؤثر ہے۔
اگر کسی کاروباری شخص کو ایک اجازت نامے، ٹیکس ریفنڈ یا رجسٹریشن کے لیے مہینوں دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، فائلیں مختلف میزوں پر رکی رہیں اور فیصلوں میں غیر یقینی صورتحال ہو تو سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کاروبار کے لئے فراہم کی جانے والی آسانیوں میں سرکاری کارکردگی اور ادارہ جاتی رفتار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان میں بھی معاشی سست روی کے اسباب میں سست رو گورننس ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ یہاں اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ سرکاری فائلیں طویل عرصے تک مختلف مراحل میں رکی رہتی ہیں، متعلقہ اداروں میں فیصلہ سازی کی رفتار کم ہے اور سائل کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
اس طرزِ عمل کے اثرات صرف انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ براہِ راست معاشی بھی ہوتے ہیں۔ کاروباری لاگت بڑھتی ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد متاثر ہوتا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور معاشی سرگرمی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
سست گورننس کرپشن اور غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جب قانونی اور سرکاری طریقہ کار غیر ضروری طور پر پیچیدہ اور طویل ہو جائے تو بعض لوگ رسمی نظام سے باہر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ریاست کی ٹیکس بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، صنعتی زونز کے قیام میں سست روی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی فائلوں کا طویل عرصہ زیرِ التوا رہنا بھی معیشت کی مجموعی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ای گورننس اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف پیش رفت ایک مثبت اور درست سمت ہے۔ دنیا بھر کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل ٹریکنگ، آن لائن منظوری نظام اور خودکار مانیٹرنگ سرکاری کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہر فائل کی نقل و حرکت، متعلقہ افسر، کارروائی کا وقت اور تاخیر کی وجوہات ڈیجیٹل نظام میں موجود ہوں تو جوابدہی بڑھتی ہے اور غیر ضروری تاخیر میں کمی آ سکتی ہے۔
تاہم پاکستان میں اصل مسئلہ اکثر عملدرآمد کی رفتار بن جاتا ہے۔ کئی اچھے منصوبے اور اصلاحاتی اعلانات اپنی افادیت کے باوجود سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ای گورننس کا نظام صرف کمپیوٹرائزیشن تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے مکمل انتظامی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ جب تک واضح ٹائم لائنز، افسران کی کارکردگی کی نگرانی، خودکار احتساب اور عوامی رسائی جیسے عناصر شامل نہیں ہوں گے، محض آن لائن پورٹل بنانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
آج دنیا تیز رفتار طرز حکمرانی کے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ریاستی اداروں کی رفتار کو بھی معاشی طاقت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اگر واقعی پائیدار معاشی ترقی چاہتا ہے تو اسے مالیاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ گورننس کو بھی قومی معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط معیشت صرف سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت سے نہیں بنتی بلکہ اس کے پیچھے ایک فعال، شفاف اور تیز رفتار ریاستی نظام بھی موجود ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














