اسلام آباد میں پہلا بین الاقوامی معیار کا کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کی تیاریاں تیز، لاگت کتنی آئے گی؟

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت میں پہلی بار جدید طرز کا بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پہلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ، پی سی بی اور سی ڈی اے کا مشترکہ منصوبہ

اجلاس میں کنسلٹنٹ کو ہدایت کی گئی کہ ٹھیکیدار کی جانب سے پیش کیے گئے تعمیراتی اخراجات (ریٹس) کا فوری جائزہ لے کر ان کی معقولیت کی تصدیق کرے تاکہ ورک آرڈر جاری کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

سی ڈی اے کے منصوبے کے مطابق یہ اسٹیڈیم سیکٹر ڈی-12 کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں زون 3 میں تعمیر کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق یہ اسٹیڈیم دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی طرز پر بنایا جائے گا اور اس میں تقریباً 35 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق سی ڈی اے کے ممبر ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کنسلٹنٹ، ٹھیکیدار اور ادارے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں منصوبے کے مختلف تکنیکی پہلوؤں، بل آف کوانٹیٹیز (بی او کیو)، کام کے دائرہ کار اور لاگت کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔

سی ڈی اے پہلے ہی مالی بولیاں کھول چکا ہے جس میں حبیب کنسٹرکشن سروسز اور زیڈ کے بی ای اے کے مشترکہ منصوبے نے تقریباً 8 ارب 90 کروڑ روپے کی کم ترین بولی دی ہے۔ اس رقم میں اسٹیڈیم کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ تقریباً 3 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں جدید انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ آخری مرحلے میں داخل

منصوبے کے پی سی ون کے مطابق اس کی مجموعی تخمینہ لاگت 11 ارب 90 کروڑ روپے ہے جبکہ اسٹیڈیم کا مجموعی تعمیراتی رقبہ 6 لاکھ مربع فٹ سے زائد ہوگا۔

زون 3 میں تعمیر پر کیا اعتراض ہے؟

سی ڈی اے حکام کے مطابق مجوزہ اسٹیڈیم مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے اندر نہیں بلکہ اس سے متصل زون 3 میں تعمیر کیا جائے گا۔

اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت اس علاقے میں زمین کے استعمال میں تبدیلی کی اجازت نہیں تاہم تفریحی، تحفظ ماحول اور قدرتی ورثے سے متعلق منصوبوں کی اجازت موجود ہے۔

سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ کرکٹ اسٹیڈیم اسی تفریحی زمرے میں آتا ہے اس لیے اس کی تعمیر قواعد کے مطابق ہے۔

ہوٹل اور کمرشل ایریا پر فیصلہ باقی

حکام نے بتایا کہ اسٹیڈیم منصوبے کے ساتھ ہوٹل اور کمرشل ایریا بھی تجویز کیے گئے تھے، تاہم ان کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری درکار ہے۔

سابق چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اس حوالے سے سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا چکے تھے جسے وزیراعظم آفس نے چند وضاحتوں کے ساتھ واپس بھیج دیا تھا۔

سی ڈی اے مطلوبہ معلومات فراہم کرکے دوبارہ سمری ارسال کر چکا ہے اور اب حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

اولمپک ولیج منصوبے کا حصہ

سی ڈی اے کے مطابق کرکٹ اسٹیڈیم 175 ایکڑ پر مشتمل مجوزہ اولمپک ولیج منصوبے کا حصہ ہے جہاں مستقبل میں مختلف کھیلوں کی سہولتیں، رہائشی انتظامات اور دیگر متعلقہ تعمیرات بھی کی جائیں گی۔ اسٹیڈیم کے لیے تقریباً 50 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔

زون تھری کی قانونی حیثیت تاحال زیر بحث

حکام کا کہنا ہے کہ زون تھری کی قانونی اور انتظامی حیثیت کئی برسوں سے زیر غور ہے۔ سنہ 2022 میں سی ڈی اے بورڈ نے اس علاقے کے بعض دیہات کو قریبی زونز میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ تعمیرات کو قانونی دائرے میں لایا جا سکے، تاہم اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے واضح کیا کہ زون تھری اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک دو الگ علاقے ہیں اور کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر سی ڈی اے بورڈ کی منظوری سے ایک تفریحی منصوبے کے طور پر کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام عمران خان نیازی اسٹیڈیم رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہوٹل اور کمرشل حصے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس بارے میں اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp