لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مرکزی مجرموں کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دی ہیں۔
عدالتِ عالیہ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرموں کو دی جانے والی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس اہم ترین کامیابی پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے عدالت میں بہترین کیس پیش کرنے پر اپنی پوری پراسکیوشن ٹیم کی کارکردگی کو دل کھول کر سراہا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کی سماعت
کیس کی تفصیلی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے کی۔ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت (اے ٹی سی ) سے سزا پانے والے دونوں مرکزی مجرموں، عابد ملہی اور شفقت عرف بگا، نے اپنے وکلا کے ذریعے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ میں اپیلیں دائر کر رکھی تھیں، جن پر فریقین کے دلائل سنے گئے۔
مجرموں کے وکلا ور پراسکیوشن کے دلائل
سماعت کے دوران مجرموں کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ’ٹرائل کورٹ نے کیس کے حقائق کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا اور وہاں ہمارا مؤقف ٹھیک سے نہیں سنا گیا‘۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا: چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی، متاثرہ لڑکی کی شکایت پر 2 ماہ بعد ایف آئی آر درج
انہوں نے استدعا کی کہ عدالت عالیہ ٹرائل کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر دونوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کرے۔
دوسری جانب حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے ان اپیلوں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بالکل درست فیصلہ دیا ہے اور مجرموں کو میرٹ پر سزائے موت سنائی گئی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں مجرموں کے خلاف ڈی این اے اور دیگر سائنسی و دستاویزی ٹھوس ثبوت موجود ہیں، اس لیے ان کی رحم کی اپیلوں کو فی الفور خارج کیا جائے۔
عدالت کا حتمی فیصلہ اور کیس کا پس منظر
لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مجرموں کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم سنایا۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
یاد رہے کہ ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے اس واقعے پر انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے دونوں مجرموں کو 20 مارچ 2021 کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ جس کے بعد دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں طویل سماعتوں کے بعد اب ان کی اپیلیں مستقل طور پر خارج کر دی گئی ہیں۔














