گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں ہونے والے انتخابات کو سیاسی تصادم، انتشار اور محاذ آرائی کے بجائے عوامی خدمت، ترقی اور بہتر حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان کا انتخابی میدان دراصل عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور مؤثر نظم و نسق کا امتحان ہے، نہ کہ سیاسی انتشار اور کشیدگی کا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج، رکاوٹوں اور عدم استحکام کی سیاست آزما چکی ہے اور اب اسی طرزِ سیاست کو گلگت بلتستان میں بھی متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابی ماحول کو غیر ضروری تنازعات اور سیاسی کشیدگی کی طرف لے جانا جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انتخابی ضابطوں کی پابندی اور این او سی کا معاملہ
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں کو مناسب این او سی نہ ہونے کی بنیاد پر روکا گیا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق انتخابی عمل میں شریک تمام جماعتوں اور کارکنوں کے لیے یکساں قانونی اصولوں کا اطلاق ضروری ہے تاکہ شفاف اور منظم سیاسی ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا سے کارکنوں کو گلگت بلتستان منتقل کرنا مقامی سیاسی عمل کو بیرونی دباؤ اور مصنوعی سیاسی شور سے متاثر کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی سیاسی فضا متاثر ہو سکتی ہے۔
جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ کا احترام
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش عوامی مینڈیٹ، جمہوری روایات اور پرامن سیاسی عمل کے خلاف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتخابی نتائج کو عوامی فیصلے کے تناظر میں قبول کرنا سیاسی بلوغت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام باشعور، تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پر بالغ ہیں۔ وہ محض نعروں یا جذباتی تقاریر کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح کے اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔
وفاقی ہم آہنگی اور سیاسی ترجیحات
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ اور زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں کے عوام عمومی طور پر وفاقی حکومت سے ہم آہنگ سیاسی جماعت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی فراہمی میں آسانی ہو اور علاقے کی ترقی کا عمل تیز رفتاری سے جاری رہ سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا ووٹر فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر امن، ترقی، مؤثر نمائندگی اور علاقائی مفادات کو مدنظر رکھ کر ووٹ دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے انتخابی رجحانات دیگر علاقوں سے مختلف تصور کیے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کو درپیش سیاسی چیلنجز
سیاسی حلقوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اس وقت ساکھ کے بحران، عوامی بداعتمادی، اندرونی اختلافات اور قیادت کے انتشار جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت کے اندر اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ مختلف دھڑے خود کو اصل قیادت قرار دیتے ہیں جبکہ عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی کمزور نظم و نسق، ناقص کارکردگی، مالی دباؤ اور عوامی مایوسی کی مثال بن چکی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی، روزگار اور عوامی فلاح کے عملی اقدامات کے بجائے میڈیا ہائپ، سیاسی شور شرابے اور الزام تراشی کو جماعت کی حکمت عملی کا محور بنا لیا گیا ہے۔
ترقی اور حکمرانی کا تقابل
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام یہ بخوبی دیکھ رہے ہیں کہ جہاں نظم و نسق، پالیسی سازی اور حکمرانی بہتر ہو وہاں ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے، جبکہ بدانتظامی اور سیاسی کشمکش ترقیاتی عمل کو متاثر کرتی ہے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان ایسے سیاسی ماڈل کو قبول نہیں کرے گا جو غربت میں اضافہ کرے، ترقیاتی منصوبوں کو روکے، ریاستی اداروں کو کمزور بنائے اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرے۔
پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنی ماضی کی کارکردگی، کرپشن کے الزامات اور کمزور حکمرانی کے باعث گلگت بلتستان میں ایک مضبوط متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے میں مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام خالی دعوؤں، ماضی کی ناکامیوں اور جذباتی نعروں کے بجائے عملی ترقی، بہتر حکمرانی اور ذمہ دار قیادت کو ترجیح دینے کے خواہاں ہیں۔
مخلوط حکومت کا امکان
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی حرکیات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کے قیام کا امکان موجود ہے۔ ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذمہ دارانہ، حقیقت پسندانہ اور جمہوری رویہ اختیار کریں تاکہ انتخابی عمل کے بعد سیاسی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
دھاندلی کے الزامات اور زمینی حقائق
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور گلگت بلتستان میں قریباً ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کے الزامات اور شور شرابہ معمول کا حصہ بن چکا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ اور زمینی کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان کا ووٹر انتشار، فساد اور سیاسی دباؤ کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے امن، استحکام، ترقی، بہتر حکمرانی اور وفاقی ہم آہنگی کے حق میں فیصلہ دے سکتا ہے، کیونکہ خطے کے عوام اپنے مستقبل کو سیاسی تنازعات کے بجائے ترقی اور خوشحالی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔














