امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے جنگی اختیارات سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ قرارداد کی منظوری میں چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس کے بعد ایوان میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ تین ماہ سے جاری جنگ پر امریکا میں سیاسی مخالفت بڑھ رہی ہے اور صدر ٹرمپ اب تک تنازع کے فوری حل کے لیے مؤثر پیش رفت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
The House has passed a resolution to limit President Donald Trump’s war powers in Iran, a significant rebuke to Trump and his handling of the conflict. https://t.co/VzQfYgxOu9 pic.twitter.com/QioITor9ze
— CNN International (@cnni) June 3, 2026
ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے دو ہفتے قبل اس قرارداد کی منظوری روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم جنگ کے طول پکڑنے اور اس کے معاشی و سیاسی اثرات کے باعث اراکینِ کانگریس میں بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا۔ ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ غیر ضروری، مہنگی اور خطرناک جنگ فوری طور پر ختم ہونی چاہیے‘۔

جیفریز کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں امریکا کی عالمی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ریپبلکن اراکین کے تعاون سے کانگریس اس جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم پہلی بار یہ قرارداد منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی اسی نوعیت کی ایک قرارداد کو ابتدائی منظوری دے چکی ہے، جہاں چند ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعتی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا۔
The US House has passed a #WarPowersResolution forcing #Trump to withdraw from #Iran and seek congressional approval for further action. Four Republicans broke ranks in a 215-208 vote, the strongest congressional rebuke of the war to date. #IranWarhttps://t.co/IDVtOwwdOh
— Asia Times (@asiatimesonline) June 4, 2026
فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی دیکھی گئی۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں امریکا سمیت مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑا۔
اسپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی معیشت اس اہم بحری راستے سے جڑی ہوئی ہے۔
اگرچہ اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی اور وقفے وقفے سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب لبنان میں ایران نواز حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے بھی امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کر لیتی ہے تو ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ امریکی حکومت کے ہاتھ بندھ گئے ہیں، جس سے سفارتی مذاکرات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
آئینی طور پر امریکا میں جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم صدر بطور کمانڈر اِن چیف فوجی کارروائی کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے جنگ اور امن کے معاملات میں کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے اختیارات کے درمیان قانونی اور سیاسی اختلافات مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔













