اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے اتفاق کر لیا ہے، جسے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم خطے میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث صورتحال بدستور نازک ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ جنگ بندی کا نفاذ اس شرط سے مشروط ہوگا کہ ایران نواز تنظیم حزب اللہ مکمل طور پر فائر بندی کرے اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجوؤں کو واپس بلا لے۔
اسرائیل اور لبنان گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان میں فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کا ہدف حزب اللہ کو قرار دیا گیا تھا۔ حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں سرحد پار اسرائیلی علاقوں پر حملے کیے تھے۔
دریں اثنا ایران کی جانب سے کویت پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ کویتی حکام کے مطابق حملوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سفارتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں، تاہم بعد ازاں حفاظتی اقدامات کے بعد فضائی آپریشن بحال کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نقصان امریکی دفاعی میزائلوں کی ناکامی کے باعث ہوا، تاہم امریکی فوج نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ڈرونز نے دانستہ طور پر ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور ایک بحری جہاز پر حملے کیے ہیں، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے جنوبی ایران میں میزائل لانچنگ مقامات، بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم میں اہداف کے خلاف نئی دفاعی کارروائیاں کی ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران متعدد مرتبہ خلیجی خطے میں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔
اگرچہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی طے پا گئی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں دوبارہ شروع ہوتی رہی ہیں۔ امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، جو جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ تھی۔
گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے ابتدائی معاہدے میں پیش رفت کے اشارے دیے تھے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پا سکا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات منقطع نہیں ہوئے، لیکن ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت بھی نہیں ہوئی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی کے علاوہ ایرانی تیل کی آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، بندرگاہوں پر امریکی رکاوٹوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور ایرانی سپریم لیڈر بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اسی ہفتے کے اختتام تک سامنے آ سکتی ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
لبنان میں اسرائیلی حملے جاری
جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔ لبنانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ بیروت کے قریب ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک مشتبہ فضائی ہدف تباہ کر دیا ہے۔
عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ لبنان میں جاری لڑائی کے دوران انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون پر سخت الفاظ میں جنگ روکنے کا کہا تھا۔
نیتن یاہو نے بعد ازاں ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ بعض معاملات پر ان اور ٹرمپ کے درمیان حکمتِ عملی کے اختلافات رہے ہیں، تاہم ایران کے حوالے سے دونوں کا بنیادی مؤقف ایک جیسا ہے۔














