آلودگی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات ہوئے؟ وفاقی آئینی عدالت نے وفاق اور صوبوں سے نئی رپورٹ طلب کرلی

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تازہ رپورٹس طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے آلودگی کی مختلف اقسام کے خاتمے کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے مونال ہوٹل سے متعلق نظرثانی درخواست پر بھی فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:آلودگی سے پاک بندرگاہیں معاشی ترقی اور محفوظ بحری ماحول کے لیے ضروری ہیں، وفاقی وزیر بحری امور

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ صنعتی فضلہ ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف گرین لائن اور ریڈ لائن بسیں چلانے سے آلودگی کم ہو جائے گی؟

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ جس سڑک سے گزرتا ہوں وہاں بدبو محسوس ہوتی ہے اور یہ بدبو بھی آلودگی کی ایک شکل ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے زمینی حقائق کیا ہیں اور اس سلسلے میں عملی طور پر کیا پیشرفت ہوئی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ آلودگی کا خاتمہ متعلقہ ماحولیاتی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ادارے قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کریں تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ماحولیات کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، جس پر صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور: آلودگی میں کمی کے لیے اسموگ ٹاور کا تجربہ ناکام، مطلوبہ نتائج نہ مل سکے

تاہم جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے ’زیرو ایکشن‘ نظر آتا ہے اور کسی بھی صوبے کی کارکردگی اطمینان بخش دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات کے دعووں کے باوجود عملی نتائج کیوں سامنے نہیں آ رہے۔

عدالت نے وفاق اور تمام صوبوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی، جبکہ مونال ہوٹل سے متعلق نظرثانی درخواست پر فریقین کو جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp