بعض سبق ایسے دلنشیں ہوتے ہیں کہ برسوں بعد بھی فراموش نہیں ہوتے۔ بعض باتیں، نکات یا واقعات بھی زندگی میں ایسے پیش آتے ہیں کہ پھر وہ تاحیات آپ کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ آپ انہیں بھول سکتےہیں نہ ان کا نقش وقت گزرنے کے ساتھ ہلکا یا مدھم پڑتا ہے۔
ایسی ہی ایک کہانی برسوں قبل میرے ہاتھ لگی۔ ایک قریبی دوست نے اپنے ایک عزیز کی داستان شیئر کی۔ میں نے ان یادوں پر ایک بار کچھ لکھا بھی تھا۔ بیان کرنے والے کا دعویٰ یہی ہے کہ یہ سچی روداد ہے،اس میں ایک خاص تاثیر بھی ہے، جو صداقت کا پتہ دیتی ہے۔
اپنی زندگی کی کہانی لکھنے والے صاحب کا فرضی نام شاہد تصور کر لیں۔ اس کہانی کو میں ان کے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ شاہد صاحب کا کہنا تھا: ‘میں کراچی کا رہنے والا ہوں، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل۔ لوئر مڈل کلاس خاندان سے تعلق ہے، والد اوسط درجے کی ملازمت کرتے تھے، زندگی بھر موٹر سائیکل پر سفر کیا، کبھی گاڑی نہیں خرید پائے۔ گھر بھی کرائے کا تھا۔ میں پڑھائی میں ہوشیار تھا، اچھے نمبر لینے کی وجہ سے شہر کے بہترین تعلیمی اداروں میں داخلہ ملتا رہا۔ اپنے پسندیدہ مضمون میں اچھی پروفیشنل ڈگری لی۔ خوش قسمتی سے بغیر کسی سفارش کے میرٹ پر جلد اچھی ملازمت مل تھی۔ پہلے ایک نیشنل پھر ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل گئی۔ بڑی کمپنی تھی، محنت سے کام کرنے پر ترقی ملتی گئی اور ساتھ ہی ذمہ داریاں بھی بڑھتی گئیں۔ ایک پسند کی جگہ پر شادی ہو گئی۔ بیوی اچھی تھی، اس نے ہمیشہ سپورٹ کیا اور کبھی ناجائز تقاضا نہیں کیا۔ اللہ نے 2 بچے بھی دے دیے‘۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟
’زندگی کا سفر آگے بڑھتا گیا۔ ملازمت اچھی چل رہی تھی، سہولتیں حاصل تھیں۔ محنت کرنے کی عادت تھی، ملازمت کے ساتھ ساتھ ایک دوست کے ساتھ مل کر چھوٹا موٹا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ کاروبار بھی چل نکلا۔ پہلے چھوٹی گاڑی لی، پھر بینک سے لیز لے کر اچھی والی بڑی گاڑی لے لی، جس میں بیٹھ کر اپنا آپ بھی پر اعتماد لگتا، تفاخر محسوس ہوتا۔ کام کی مصروفیت کی وجہ سے گھر والوں کے لیے وقت کم نکل پاتا، مگر اپنی طرف سے انہیں کوالٹی ٹائم دینے کی کوشش کرتا رہتا۔ ہفتے میں ایک 2 بار بیوی بچوں کو اچھے ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے جاتا، مہینے میں ایک آدھ بار رات کو کسی بڑے مال یا تفریحی سنٹر لے جا کر بچوں کو خوب کھیلنے کا موقع دیتا۔ گھر کے ساتھ ہی پارک ہے، وہاں وہ ویک اینڈ پر اپنی ماں یا دادا کے ساتھ چلے جاتے۔ گھر کا ماحول خوشگوار تھا، یوں لگتا جیسے ارضی جنت میں زندگی گزار رہا ہوں‘۔
’ایک چیز البتہ محسوس کرنے لگا کہ میرے معمولات بہت ٹائٹ اور ٹف ہو چکے ہیں۔ صبح اٹھ کر ناشتہ کر کے آٹھ بجے گھر سے نکلتا تو رات کو نو دس بجے سے پہلے واپسی نہ ہو پاتی۔ 12،14 گھنٹے کام کرنے سے اتنی زیادہ تھکن ہو جاتی کہ آتے ہی ڈھیر ہو جاتا۔ جنک فوڈ کی بھی عادت پڑ گئی۔ کام کے دوران اکثر بریانی منگوا لیتا یا پھر برگر وغیرہ سے کام چلاتا۔ باقاعدہ کھانا کھانے جانے میں وقت ضائع ہونے کا خدشہ رہتا۔ گھر سے ٹفن لے کر آنا مجھے پسند نہیں تھا۔ رات کو بھی اکثر کلائنٹس وغیرہ کے پاس آنے جانے میں کھانے کا وقت ہوتا تو باہر کہیں سے فاسٹ فوڈ ٹائپ کھا لیتا۔ کام کی اسٹریس بڑھنے لگی تو ایک دوست کے مشورے پر ریلیکس ہونے کے لیے موبائل فون پر ہلکے پھلکے کامیڈی شوز دیکھ لیتا۔ پاکستانی اور پڑوسی ملک کے انٹرٹینمنٹ شوز کے مختصر کلپ یوٹیوب پر مل جاتے ہیں، انہیں دیکھنے سے تھکن اتر جاتی‘۔
’زندگی بڑے مزے میں گزر رہی تھی، ایک دوست کے بقول میری زندگی کی گاڑی ٹاپ گیئر میں چل رہی تھی۔ ایک دن اچانک دفتر سے اٹھتے ہوئے میری چھاتی میں شدید درد اٹھا۔ کچھ دیر تو دبا رہا، مگر یہ درد بڑھتا ہی گیا۔ کچھ عرصے سے ایسا ہو رہا تھا مگر ہر بار نظرانداز کر دیتا، کبھی کوئی پین کلر کھا لیتا۔ ڈاکٹر کو دکھانے کا خیال تو آتا مگر اتنا وقت نہیں تھا۔ زندگی کا پہیہ اتنی تیز رفتار سے چل رہا تھا کہ کہیں چند لمحوں کے لیے سستانے کا وقت بھی نہیں تھا۔ خیر اس دن درد اتنا شدید تھا کہ ہوش ہی اڑ گئے۔ کوئی چارہ نہ دیکھ کر کولیگز ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جہاں ای سی جی ہوئی تو پتا چلا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے، ڈاکٹر نے فوری طور پر اسٹنٹ ڈالنے کا کہا۔2 اسٹنٹ ڈالے گئے‘۔
’زندگی میں اب ایک اہم موڑ آیا۔ ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کے پاس مہینے میں 2 بار دکھانے کے لیے جانے لگا۔ وہاں پر ایک روز عجیب بات ہوئی۔ ایک دن کسی وجہ سے ڈاکٹر نہیں تھے تو کچھ انتظار کرنا پڑا۔ ایک بزرگ سے صاحب ساتھ بیٹھے تھے، ان کے ساتھ گپ شپ ہونے لگی۔ انہوں نے پوچھا کہ اتنی عمر تو نہیں ہے، پھر یہ اسٹنٹ کی نوبت کیوں آئی۔ تفصیل سنائی۔ وہ دھیمے انداز میں بڑی نستعلیق اردو بولنے والے شخص تھے۔ خاموشی سے سنتے رہے، پھر بولے اب زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ انہیں بتایا کہ کھانے پینے کی عادتیں بدل رہا ہوں، واک کی عادت ڈال دی ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ اب سب ٹھیک رہے گا۔ وہ صاحب مسکرا کر سنتے رہے، پھر اچانک ایک ایسا جملہ کہا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ کہنے لگے، ’باقی تو ٹھیک ہے، مگر اس سب میں خدا کہاں ہے؟ آپ کے اس پورے شیڈول میں خدا ہی مسنگ ہے، آپ کی ترجیحی فہرست میں کیا اس خالق کی کوئی جگہ نہیں، جس نے آپ پر بے پناہ رحمتیں نازل کیں؟ آج رات سوچیے گا کہ کہیں یہ اسٹنٹ ڈالنے والا واقعہ آپ کو جھنجھوڑنے کے لیے تو نہیں ہوا؟ آپ کی ڈیلی ٹریک لائف کو ٹریک پر لانے کی کوشش؟‘
شاہد صاحب کے بقول ’اس ایک منٹ کے مکالمے نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ رات کو میں دیر تک سوچتا رہا، پھر اٹھ کر کاغذ قلم اٹھایا اور اپنے معمولات کی فہرست بنائی۔ معلوم ہوا کہ ہر ایک کے لیے وقت تھا مگر اپنے رب کی عبادت کے لیے، اس کا شکر ادا کرنے کے لیے ایک منٹ بھی نہیں۔ اگلے روز سے زندگی کے پیٹرن میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کی۔ دن بھر میں صرف ایک گھنٹہ اس تخمینے یا اسیسمنٹ کے لیے وقف کر دیا کہ آج خدا کے لیے کیا کرنا ہے؟ آدھا گھنٹہ صبح، آدھا گھنٹہ رات کو سونے سے پہلے۔ صبح میں صرف تیس منٹ بیٹھ کر یہ پلان بناتا ہوں کہ دن بھر کے معمولات کیا ہوں گے؟ وہی سب مصروفیت ہے، انہی صحت مند عادتوں پر کاربند ہونے کی کوشش، مگر اب محور بدل گیا ہے۔‘۔
’اب اپنے معمولات بناتا ہوں کہ کون سی میٹنگ نمازِ فجر کے بعد رکھنی ہے، فیلڈ میں نکلا تو عصر کہاں پڑھوں گا؟ مغرب اور عشا کہاں؟ صبح نماز پڑھنے کے بعد صرف 10،15 منٹ کے لیے تلاوتِ قرآن کرتا ہوں، دس منٹ تلاوت اور صرف 5 منٹ کے لیے چند آیات کا ترجمہ۔ ڈیڈھ سو روپے کی ایک چھوٹی سی انگوٹھی نما تسبیح ملتی ہے، وہ 4،5 لے آیا ہوں۔ایک جیب میں، ایک گاڑی میں رکھی ہے اور باقی ریزرو‘۔
’گھر سے دفتر 20 منٹ کا سفر ہے، اس میں پہلے کی طرح گانے سننے کے بجائے 4،5 تسبیحات پڑھ لیتا ہوں، وہ کلمات جو آپ ﷺ کے مبارک فرمان کے مطابق مختصر مگر عمل میں بھاری ہیں۔ سبحان اللہ بحمدہ سبحان اللہ العظیم ، لاالہ الا اللہ وغیرہ، اس کے ساتھ استغفار اور درودِ پاک۔ یہی معمول واپسی پہ ہوتا ہے۔ دفتر کام کے دوران بھی جب خیال آ جائے اپنے رب کا نام پیار سے لے لیا۔ دل کی کلی مہک اتھتی ہے‘۔
مزید پڑھیے: ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں
’رات کو روزانہ آدھا گھنٹہ باقاعدہ کاغذ قلم لے کر حساب کرتا ہوں کہ آج کون سا ایسا نیک کام ہوا ۔ ایک دن نتیجہ مایوس کن نکلتا ہے تو اگلے دن الحمدللہ خود بخود کارگزاری بہتر ہوجاتی ہے۔ اپنی گفتگو میں مزید نرمی یہ سوچ کر پیدا کی ہے کہ یہ رب کو پسند ہے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔ میں یہ لازمی سوچتا ہوں کہ کیا کوئی ایسی بات تو نہیں کہی جس سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو؟‘
’دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ تعلق زیادہ بہتر ہوا ہے، ہفتہ میں ایک آدھ بار گھر سے زیادہ کھانا پکوا کر ان کے ساتھ کھاتا ہوں، دوستوں، کولیگز کی ضرورت یا مدد پر نظر رکھنے کی عادت پڑ گئی۔ مشکل میں دیکھا تو خاموشی سے مدد کرا دی۔ ایک اصول طے کر لیا کہ اپنی آمدنی کا کم از کم دس فیصد چیریٹی کرنا ہے ۔صرف 90 فیصد آمدنی میں گزارا کرنا ہے‘۔
’پہلے بھی والدین کا خیال رکھتا تھا مگر اب دانستہ سوچ کر ہفتے میں چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارتا ہوں۔ رات کو باہر سے گھر آتا ہوں تب بھی گرین ٹی یا قہوہ والدین کے ساتھ پی لیتا ہوں تاکہ کچھ گپ شپ ہو جائے۔ جب موقع ملے والد کے پیر دبا دیے، والدہ کا سر دبا دیا، ان کی دعائیں لیں۔ رات کو سونے سے پہلے چند منٹ بچوں کے لیے مختص کر دیے ہیں، انہیں قصص القرآن یا صحابہ کرام کے واقعات میں سے کوئی سنا دیا یا روزمرہ کی کوئی دعا یاد کرا دی۔ خود سے یہ کمٹمنٹ کی ہے کہ ہر روز کوئی سے 2 یا 3 رشتے داروں اور دوستوں کو خیر خیریت کا فون کروں گا۔ مختصر 3،4 منٹ کی سلام دعا‘۔
’رات کو سونے سے پہلے 2 نفل شکرانے کے پڑھنے کی عادت ڈال لی ہے کہ رب نے آج کا دن خیر و خیریت سے گزار دیا۔ یہ بتاتا چلوں کہ اس سب کچھ میں ہرگز زیادہ وقت خرچ نہیں ہوتا۔ یہ احساس البتہ ہوتا ہے کہ اللہ میری ترجیحات میں سرِ فہرست ہے، اس کے ساتھ جڑا ہوا ہوں، دنیا کی بھاگ دوڑ میں اپنے خالق کو فراموش نہیں کیا‘۔
مزید پڑھیں: ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں
صاحبو! ان دوست کی شیئر کی گئی اس روداد کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، مفہوم تاہم وہی ہے۔ بیان ان کا ہے، اندازِ تحریر البتہ میں نے اپنے حساب سے بدلا ہے تاکہ روانی رہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد سخت شرمندگی ہوئی اور اپنے محاسبے کا شدت سے خیال آیا۔ زندگی کے تیز رفتار سفر میں میرے جیسے لوگ تنکے کی طرح بہے چلے جا رہے ہیں۔ کیا خبر ہمارے حصے میں کوئی وارننگ بھی ہے یا ایسے ہی اچانک کہانی ختم ہو جائے گی۔ خوش نصیب ہیں وہ جنہوں نے اپنی زندگی کی ترجیحات درست کر لیں۔ اپنے رب کو اول ترجیح بنا لیا۔ ان کی یقیناً دنیا بھی سنور گئی، آخرت بھی۔
ویسے صرف ایک گھنٹہ روز(آدھا گھنٹہ صبح، آدھا گھنٹہ رات ) اس کام کے لیے مختص کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اپنی زندگی کے شیڈول کو تھوڑا سا منظم کرنے اور اسے مثبت سمت دینے سے زندگی یکسر بدل سکتی ہے۔ ہم بھی پھر سے عزم باندھتے ہیں، آپ بھی آزما کر دیکھیں، اللہ خیر فرمانےاور خیر کو قبول کرنےوالے ہیں۔













