پاکستان نے گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھارت کی جانب سے داغے گئے بیانات اور ریمارکس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک اہم اور تفصیلی سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے یہ حالیہ بیانات زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری میں غلط معلومات پھیلانے کی ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں، جس کی پاکستان کے سفارتی حلقوں میں شدید مذمت کی گئی ہے۔
گلگت بلتستان پر بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول
ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارتی اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کا انتخابی عمل اور وہاں کے انتظامی امور مکمل طور پر پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کے متنازع آبی منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار، خطے میں امن کے لیے سفارتکاری جاری، ترجمان دفتر خارجہ
بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے کسی بھی خطے کے داخلی معاملات پر کسی بھی بیرونی ملک یا طاقت کی بلاجواز تنقید یا تبصرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان نے یاد دلایا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے جمہوری عمل کا حصہ رہے ہیں اور ان کا اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنا ان کا آئینی حق ہے۔
مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ
اپنے تفصیلی بیان میں پاکستان نے جموں کشمیر کے تنازع پر اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف کو ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ دہرایا ہے۔
🔊 PR No.1️⃣4️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Rejects India’s Remarks on Gilgit-Baltistan Elections, Reaffirms Position on Jammu and Kashmir
🔗⬇️ pic.twitter.com/NQ5hvZDtPu
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 5, 2026
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کسی کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی اور پائیدار حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے عین مطابق ہی ممکن ہے۔
یہ تاریخی تنازع 1947 کے واقعات کے بعد سے حل طلب ہے اور اس کا واحد منصفانہ راستہ یہی ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ‘حقِ خودارادیت’ دیا جائے۔
مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں
دفتر خارجہ کے اعلامیے میں اس نکتے پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتخابات کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین اور سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فورسز کو کالے قوانین اور خصوصی اختیارات کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کی آڑ میں کشمیری عوام کے خلاف بدترین ریاستی جبر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور وہاں کی مقامی قیادت کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔
5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ
سفارتی سطح پر دباؤ بڑھاتے ہوئے پاکستان نے بھارت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ 5 اگست 2019 کے بعد جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کیے گئے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر واپس لے۔
اس کے ساتھ ہی متنازع خطے میں نافذ سخت اور ظالمانہ قوانین کو ختم کیا جائے اور بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی آزاد تنظیموں سمیت عالمی میڈیا کو مقبوضہ وادی کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلا روک ٹوک رسائی دی جائے۔
کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے سے ہی امن ممکن ہے
بیان کے اختتام پر پاکستان نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل اور دیرپا امن کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک بھارت کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دینے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا حق نہیں مل جاتا۔














