انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہونے والی نوجوانوں کی ڈیجیٹل تحریک ’کاکروچ یوتھ موومنٹ‘ کے بانی کے نئی دہلی پہنچنے کے بعد بھارتی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے، جہاں تنظیم نے پہلی بار وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقام پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔
India's First ZenG Demonstration!
Today is the first demonstration of the Cockroach People's Party. The venue is Delhi's Jantar Mantar. The party's founder, Abhijeet Dimke, has already landed at Delhi Airport. He is expected to reach the Parliament Street Police Station in a…
— Sanjeev Yadav (@sanjeevyadav007) June 6, 2026
ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ احتجاج کے دوران دارالحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔

حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔
بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔












