فٹبال ورلڈ کپ 2026 سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایرانی قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں کو امریکا کے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں، تاہم ٹیم کے بعض انتظامی عہدیدار اب بھی ویزوں کے منتظر ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی کھلاڑیوں کو امریکا میں داخلے کے لیے ویزے مل چکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل میکسیکو میں ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے کہا تھا کہ ٹیم کو ابھی تک ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ فٹبال فیڈریشن کے بعض اعلیٰ عہدیداروں اور میڈیا نمائندوں کو تاحال ویزے نہیں مل سکے۔
Players on Iran's World Cup soccer team have received visas that will allow them to enter and compete in the U.S., an official confirms. https://t.co/x75zBxm5cR
— ABC News (@ABC) June 5, 2026
رپورٹس کے مطابق جن اہلکاروں کو ویزے جاری نہیں ہوئے، ان میں فٹبال فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ہدایت مومبنی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر مہدی خراتی اور میڈیا ڈائریکٹر محسن معتمدکیا شامل ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہلکار ٹیم کے ہمراہ میکسیکو جائیں گے جبکہ ان کے ویزوں کے حصول کی کوششیں جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کر رہے ہیں۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد یہ ٹورنامنٹ غیر معمولی سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ میزبان ممالک میں شامل ایک ملک ایسی ٹیم کی میزبانی کر رہا ہے جس کے ساتھ اس کی جنگ جاری ہے۔
Iran's football squad, whose participation in the World Cup remains uncertain, have handed over their passports to the US embassy in Türkiye for visas, an official sayshttps://t.co/KeDGyhVgWD
— TRT World (@trtworld) June 5, 2026
ویزا مسائل کے باعث ایران نے آخری وقت میں اپنی ٹیم کا بیس امریکی ریاست ایریزونا سے منتقل کرکے میکسیکو کے شہر تیجوانا میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی ٹیم 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گی، جبکہ گروپ مرحلے میں اسے بیلجیم اور مصر کا بھی سامنا ہوگا۔
ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران کشیدگی کے باوجود امن اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق کھیلوں کے میدان میں موجودگی دشمنی کے بجائے رابطے اور مفاہمت کا پیغام دیتی ہے۔














