امریکی بحری ناکہ بندی : ایران کو پٹرولیم ریونیو میں 6 ارب ڈالرز کا نقصان

ہفتہ 6 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی خام تیل کی برآمدات مئی کے مہینے میں گزشتہ 6 سال کی کم ترین سطح پر گرگئی ہیں، جس سے تہران کو ملنے والی آمدنی کے سب سے بڑے اور اہم ترین مآخذ کو شدید معاشی دھچکا پہنچا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 13 اپریل سے شروع کی جانے والی اس سخت بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران پر امن معاہدے کی شرائط ماننے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کردیے جائیں گے، ٹرمپ

 دوسری طرف، تہران نے اس امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور ایرانی بندرگاہوں کے گرد امریکی بحریہ کی جانب سے جہازوں کو قبضے میں لینے کے عمل کو کھلی ’قزاقی‘ سے تعبیر کیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق تجارتی انٹیلی جنس فرم’کیپلر‘  کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی سے قبل ایران روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کررہا تھا، جو مئی میں کم ہو کر روزانہ 3 لاکھ بیرل سے بھی کم رہ گیا ہے۔

اس زبردست گراوٹ کے نتیجے میں ایران کو اپریل اور مئی کے دوران مجموعی طور پر 5.8 ارب ڈالرز (تقریباً 6 ارب ڈالر) کے پٹرولیم ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

مارچ کے مہینے میں جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں، ایران روزانہ 16 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کما رہا تھا اور اس کا ماہانہ ریونیو 5.13 ارب ڈالر تھا، جو اب مئی میں 84 فیصد کمی کے بعد صرف 83 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہ گیا ہے۔

اس ناکہ بندی نے سب سے زیادہ نقصان ایران کے سب سے بڑے خریدار ‘چین’ کو ہونے والی سپلائی کو پہنچایا ہے۔

کیس کا پس منظر یہ ہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا بھر کی سپلائی کے لیے اسٹریٹجک ‘تزویراتی آبنائے ہرمز’ کو بند کر دیا تھا، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے کے لیے سخت شرائط رکھتے ہوئے جلد حتمی فیصلے کا عندیہ

اس بندش سے عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں اور سعودی عرب، کویت، عراق اور یو اے ای جیسے بڑے پروڈیوسرز کی برآمدات رک گئیں، لیکن ایران مارچ اور اپریل کے وسط تک اپنا تیل مہنگے داموں برآمد کر کے فائدہ اٹھاتا رہا۔

اب امریکی ناکہ بندی نے پسا پلٹ دیا ہے۔ اگرچہ ایران میں تیل کی پیداوار اب بھی جاری ہے، لیکن فروخت نہ ہونے کے باعث ایران اسے سمندر میں کھڑے آئل ٹینکرزمیں ذخیرہ کرنے پر مجبور ہے، جہاں اس وقت 14 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل پھنسا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے