امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی خام تیل کی برآمدات مئی کے مہینے میں گزشتہ 6 سال کی کم ترین سطح پر گرگئی ہیں، جس سے تہران کو ملنے والی آمدنی کے سب سے بڑے اور اہم ترین مآخذ کو شدید معاشی دھچکا پہنچا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 13 اپریل سے شروع کی جانے والی اس سخت بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران پر امن معاہدے کی شرائط ماننے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کردیے جائیں گے، ٹرمپ
دوسری طرف، تہران نے اس امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور ایرانی بندرگاہوں کے گرد امریکی بحریہ کی جانب سے جہازوں کو قبضے میں لینے کے عمل کو کھلی ’قزاقی‘ سے تعبیر کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تجارتی انٹیلی جنس فرم’کیپلر‘ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی سے قبل ایران روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کررہا تھا، جو مئی میں کم ہو کر روزانہ 3 لاکھ بیرل سے بھی کم رہ گیا ہے۔
اس زبردست گراوٹ کے نتیجے میں ایران کو اپریل اور مئی کے دوران مجموعی طور پر 5.8 ارب ڈالرز (تقریباً 6 ارب ڈالر) کے پٹرولیم ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
مارچ کے مہینے میں جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں، ایران روزانہ 16 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کما رہا تھا اور اس کا ماہانہ ریونیو 5.13 ارب ڈالر تھا، جو اب مئی میں 84 فیصد کمی کے بعد صرف 83 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہ گیا ہے۔
اس ناکہ بندی نے سب سے زیادہ نقصان ایران کے سب سے بڑے خریدار ‘چین’ کو ہونے والی سپلائی کو پہنچایا ہے۔
کیس کا پس منظر یہ ہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا بھر کی سپلائی کے لیے اسٹریٹجک ‘تزویراتی آبنائے ہرمز’ کو بند کر دیا تھا، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے کے لیے سخت شرائط رکھتے ہوئے جلد حتمی فیصلے کا عندیہ
اس بندش سے عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں اور سعودی عرب، کویت، عراق اور یو اے ای جیسے بڑے پروڈیوسرز کی برآمدات رک گئیں، لیکن ایران مارچ اور اپریل کے وسط تک اپنا تیل مہنگے داموں برآمد کر کے فائدہ اٹھاتا رہا۔
اب امریکی ناکہ بندی نے پسا پلٹ دیا ہے۔ اگرچہ ایران میں تیل کی پیداوار اب بھی جاری ہے، لیکن فروخت نہ ہونے کے باعث ایران اسے سمندر میں کھڑے آئل ٹینکرزمیں ذخیرہ کرنے پر مجبور ہے، جہاں اس وقت 14 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل پھنسا ہوا ہے۔














