ایبولا کا شکار امریکی ڈاکٹر صحت یاب، کانگو میں متاثرہ افراد کی تعداد 488 تک پہنچ گئی

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی ڈاکٹر جرمنی میں کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب کانگو میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ کر 488 تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین صحت نے وبا کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ حالیہ برسوں کی سب سے بڑی ایبولا وبا بن سکتی ہے۔

جرمنی کے معروف شاریتے (Charité) اسپتال نے بتایا کہ 39 سالہ امریکی سرجن پیٹر اسٹافورڈ 2 ہفتوں سے زائد عرصے تک علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو گئے ہیں اور انہیں قرنطینہ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس کامیاب علاج کو اہم طبی کامیابی قرار دیا ہے۔

پیٹر اسٹافورڈ ایک مسیحی مشنری تنظیم کے تحت جمہوریہ کانگو میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں مشرقی کانگو میں ایک ایبولا مریض کا آپریشن کرنے کے دوران وائرس منتقل ہوا۔ بعد ازاں انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے یوگنڈا سے جرمنی منتقل کیا گیا جہاں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ان کا علاج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایبولا وائرس پھیلنے کا خطرہ، یو اے ای نے 3 ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کردیں

اسپتال کے مطابق مریض کو ایسے تجرباتی علاج فراہم کیے گئے جو اس مخصوص قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف آزمائشی مراحل میں ہیں۔ اسٹافورڈ نے صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں اور طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل و دماغ میں اب بھی کانگو کے وہ لوگ موجود ہیں جنہیں ایسی جدید طبی سہولیات میسر نہیں۔

پیٹر اسٹافورڈ کی اہلیہ اور 4 بچوں کو بھی احتیاطاً برلن میں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا، تاہم ان میں وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور ان پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبا تاحال قابو میں نہیں آ سکی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 488 ہو چکی ہے جبکہ 86 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی 19 کیسز اور دو اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یوگنڈا نے کانگو سے ملحقہ مغربی سرحدی راستوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے سرحدی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت پہلے ہی اس وبا کو عالمی صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے چکا ہے، جبکہ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی تاریخی ایبولا وبا کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ وبا میں پائے جانے والے بنڈی بوجیو وائرس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، البتہ مختلف ویکسینز پر تحقیق اور آزمائشی مراحل تیزی سے جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp