آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکی فورسز کا 2 ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلیج کے حساس سمندری راستے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فورسز نے دو ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جنہیں بین الاقوامی بحری ٹریفک اور تجارتی جہازوں کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا منجمد ایرانی اثاثے خلیجی اتحادیوں کو دینے پر غور، تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب اس وقت کی گئی جب امریکی بحری اور فضائی نگرانی کے نظام نے دو ایرانی ڈرونز کی ایسی سرگرمی ریکارڈ کی جسے تجارتی جہاز رانی اور بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے لیے خطرناک سمجھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں بحری ٹریفک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار روزانہ منتقل ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی یا غیر معمولی سرگرمی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان ڈرونز کی موجودگی سے تجارتی جہازوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد امریکی بحریہ نے خطے میں اپنے اتحادی ممالک اور تجارتی جہاز رانی کے شعبے سے رابطے بڑھا دیے ہیں تاکہ سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکی فوجی ذرائع نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس امریکی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں ایران اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور خلیج میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتا آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی پہلے ہی موجود ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا فوجی تصادم یا سیکیورٹی بحران عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ واقعہ محدود نوعیت کا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ خلیج میں جاری کشیدہ ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس واقعے کے بعد خطے میں مزید عسکری اقدامات دیکھنے کو ملتے ہیں یا فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے دوران بہادری دکھانے والے شہری سے وزیراعلیٰ بلوچستان کا ٹیلیفونک رابطہ، خراج تحسین

واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے، تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

فلک شبیر کے مختصر لباس پر پابندی کے مطالبے پر علیزے شاہ ماضی کا سچ سامنے لے آئیں

گجرات میں شدید ترین گرمی کا قہر، خطرے سے دوچار ایشیائی نسل کے 8 شیر کے  بچے ہلاک

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے

گلگت بلتستان میں عام انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ