سپریم کورٹ نے شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کر دی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی پرنس ریحان نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول شوہر بے روزگار تھا اور اپنی اہلیہ افشاں سحر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ میکے سے پیسے منگوانے پر بھی مجبور کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹس سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
وکیلِ صفائی کے مطابق مجرمہ کے 4 بچے تھے اور اس کی والدہ اکثر مالی مدد کیا کرتی تھیں، تاہم آخری مرتبہ انہوں نے مزید رقم دینے سے انکار کر دیا، جس پر شوہر نے افشاں سحر پر تشدد کیا۔
پروسیکیوشن کے مطابق خاتون نے شوہر کے سر پر وار کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عموماً شوہر بیوی کو قتل کرتا ہے، تاہم یہ پہلا ایسا مقدمہ دیکھا ہے جس میں بیوی نے شوہر کو قتل کیا۔
مزید پڑھیں: زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا مجرمہ افشاں سحر نے اپنے بیان میں جرم کا اعتراف کیا تھا؟
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے نشاندہی کی کہ مقدمے میں افشاں سحر کے 2 بھائی بھی نامزد تھے، تاہم انہیں بری کر دیا گیا تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر صرف استغاثہ کے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے تو مقدمے میں تینوں ملزمان بری ہو سکتے تھے۔
مزید پڑھیں: اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کیس، سپریم کورٹ نے مکمل ریکارڈ طلب کرلیا
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مجرمہ نے اپنی عزت اور تحفظ کو لاحق خطرات کے ردعمل میں یہ اقدام کیا۔
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 4 بچے پیدا کر لیے، ابھی بھی عزت کو خطرہ تھا۔
وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ افشاں سحر 2016 سے جیل میں ہے اور تقریباً 10 سال قید کاٹ چکی ہے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔














