ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج کی فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں، حتمی معاہدے تک امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کی کارروائیوں کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے۔
تاہم بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر اسرائیل نے خصوصاً جنوبی لبنان سمیت کسی بھی محاذ پر حملے جاری رکھے تو ایران پہلے سے زیادہ سخت اور طاقتور جواب دے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ روز کی فوجی کارروائیاں اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی، جس کے بعد اسرائیل نے بھی ایران کو نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیے: اسرائیل کے ایران پر نئے فضائی حملے، تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات
بیان سے قبل ایران کے سینیئر سیاسی اور عسکری عہدیداروں نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران فوجی ردعمل دے گا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں نافذ جنگ بندی کو وہ ایران سے متعلق جنگ بندی کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ سمجھتا ہے اور اس کی کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں؛ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران سے معاہدہ قریب ہے، ٹرمپ
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ اس وقت فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں تاہم کسی بھی نئے حملے یا اشتعال انگیزی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل اور ایران دونوں فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان امن سے متعلق حتمی مذاکرات جاری ہیں۔
“Both sides, Israel and Iran, are looking to do an immediate CEASEFIRE! Final negotiations on “Peace” are proceeding, subject to ignorance or stupidity getting in its way…” – President DONALD J. TRUMP pic.twitter.com/zLoFSZo3jZ
— The White House (@WhiteHouse) June 8, 2026
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے لیے تیار نظر آتے ہیں اور امن کے حوالے سے حتمی مذاکرات جاری ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جہالت یا حماقت اس عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔













