موت کا کنواں: ایک صدی پرانا خطرناک تماشا جو آج بھی دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انجنوں کی گرج، جلتے ایندھن کی بو، تماشائیوں کی بے اختیار چیخیں اور لکڑی کی عمودی دیوار پر دوڑتی موٹرسائیکلیں اور کاریں۔ دنیا بھر میں ’ویل آف ڈیتھ‘ یا ’وال آف ڈیتھ‘ یعنی موت کا کنواں ان چند تفریحی مظاہروں میں شمار ہوتا ہے جو ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سلیپ فائٹنگ: چہرے پر تھپڑوں کی بوچھاڑ والا جان لیوا کھیل

بظاہر یہ صرف ایک سرکس یا میلے کا کھیل محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ کششِ ثقل، رفتار، مہارت اور ہمت کا ایسا امتزاج ہے جس میں معمولی بھی کرتب دکھانے والے کی جان لے سکتی ہے۔

برطانیہ، بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور امریکا سمیت مختلف ممالک میں یہ خطرناک تماشا کئی دہائیوں سے میلوں، نمائشوں اور ثقافتی تقریبات کا حصہ رہا ہے۔ اس کھیل میں موٹر سائیکل یا گاڑی سوار لکڑی کے عمودی گول ڈھانچے کے اندر انتہائی رفتار سے چکر لگاتے ہیں جہاں معمولی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک صدی پرانی روایت

ویل آف ڈیتھ کی تاریخ 20ویں صدی کے آغاز تک جا پہنچتی ہے۔ سنہ 1910 اور 1920 کی دہائیوں میں امریکا اور یورپ کے میلوں میں پہلی بار لکڑی کے بڑے گول ڈھانچوں کے اندر موٹرسائیکل سواروں نے عمودی دیواروں پر دوڑنا شروع کیا۔

مزید پڑھیے: کشمیری معاشرے میں روایتی کھیل گتکا کی کیا اہمیت ہے؟

رفتہ رفتہ یہ مظاہرہ دنیا بھر میں مقبول ہو گیا اور مختلف ممالک میں گھومنے والے سرکسوں، میلوں اور تفریحی پارکوں کا حصہ بن گیا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ جدید تفریحی ذرائع سامنے آتے گئے لیکن ویل آف ڈیتھ اپنی منفرد سنسنی اور حقیقی خطرے کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے۔

ویل آف ڈیتھ یا وال آف ڈیتھ؟

بعض ممالک میں اسے ’ویل آف ڈیتھ‘ کہا جاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر ’وال آف ڈیتھ‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر دونوں نام ایک ہی مظاہرے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

’ویل‘ سے مراد گول کنواں نما لکڑی کا ڈھانچہ ہے جبکہ ’وال‘ اس کی عمودی دیواروں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ عملی طور پر دونوں اصطلاحات ایک ہی خطرناک کھیل کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یہ کام کیسے کرتا ہے؟

ویل آف ڈیتھ کا بنیادی اصول طبیعیات کے ایک سادہ مگر حیرت انگیز قانون پر مبنی ہے۔

مزید پڑھیں: جب کوبرا کھیل کے میدان میں آیا تو پھر کوئی مقابل نہ رہا

موٹرسائیکل سوار پہلے نیچے سے رفتار حاصل کرتا ہے اور پھر تیزی سے لکڑی کی عمودی دیوار پر چڑھ جاتا ہے۔ رفتار بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی مرکز گریز قوت اسے دیوار سے چپکائے رکھتی ہے جس کے باعث وہ تقریباً افقی حالت میں دیوار کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے۔

تماشائی عموماً ڈھانچے کے اوپر کھڑے ہو کر نیچے جھانکتے ہیں اور سوار ان کے بالکل قریب سے گزرتا ہے جس سے سنسنی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

حقیقی خطرہ، کوئی جادو نہیں

موت کے کنویں کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہ کوئی بصری دھوکا یا تکنیکی چال نہیں۔

وال آف ڈیتھ فنکار کین فاکس۔

اس مظاہرے میں شامل افراد واقعی اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ موٹرسائیکل کی معمولی خرابی، لکڑی کی سطح پر مسئلہ، یا رفتار میں کمی سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

برطانیہ کے معروف ویل آف ڈیتھ فنکار کین فاکس، جو نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ مظاہرہ کر رہے ہیں، اس خطرے کو کھلے الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے توجہ میں واقع ہونے والی کمی کو بہتر کیسے بنایا جائے؟

ان کے مطابق یہ کوئی جادوئی کرتب نہیں بلکہ حقیقی زندگی کا خطرہ اور سنسنی ہے اسی لیے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔

کین فاکس خود ایک حادثے میں شدید زخمی ہو چکے ہیں اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی اس پیشے سے وابستہ ہیں۔

نسل در نسل منتقل ہونے والا فن

دنیا کے مختلف حصوں میں موت کا کنواں صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ خاندانی روایت بن چکا ہے۔

کئی خاندانوں میں دادا، والد اور پھر بیٹے اسی فن سے وابستہ رہے ہیں۔ برطانیہ میں کین فاکس کا خاندان اس کی ایک مثال ہے جہاں کئی نسلوں سے یہی فن جاری ہے اور اب ان کے بیٹے بھی اس مظاہرے کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں: زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کے دل کے لیے خطرناک، نئی تحقیق نے والدین کو خبردار کر دیا

اسی طرح پاکستان، بھارت، امریکا، جرمنی اور دیگر ممالک میں بھی ایسے خاندان موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اس خطرناک فن کے نام کی ہوئی ہیں۔

جدید دور میں بقا کی جدوجہد

اسمارٹ فونز، ویڈیو گیمز، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ورچوئل تفریح کے دور میں جہاں بہت سی روایتی تفریحات معدوم ہو چکی ہیں روایتی میلوں اور سرکسوں کے لیے اپنی جگہ برقرار رکھنا آسان نہیں۔

اس کے باوجود موت کا کنواں آج بھی لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جسے اسکرین پر دیکھنے اور سامنے محسوس کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مزید پڑھیے: فارمولا ون ریس میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال اور ٹیکنالوجی کا نیا دور

تماشائی جب چند فٹ کے فاصلے سے موٹرسائیکل کو عمودی دیوار پر دوڑتے دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کوئی کمپیوٹر گرافکس یا مصنوعی منظر نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

دنیا بھر میں مقبولیت

موت کا کنواں آج بھی مختلف ممالک کے میلوں، ثقافتی تقریبات اور سرکسوں کا حصہ ہے۔

برطانیہ، امریکا اور یورپ کے بعض حصوں میں یہ روایتی تفریح کے طور پر برقرار ہے جبکہ جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان اور بھارت میں بھی اس کی مقبولیت دیکھی جا سکتی ہے جہاں بعض مقامات پر موٹرسائیکلوں کے ساتھ ساتھ کاریں بھی عمودی دیواروں پر چلائی جاتی ہیں۔

لوگ اب بھی کیوں دیکھتے ہیں؟

نفسیات دانوں کے مطابق انسان فطری طور پر خطرے اور سنسنی کی جانب متوجہ ہوتا ہے خصوصاً جب خطرہ کسی اور کو درپیش ہو۔

یہ بھی پڑھیں: روایتی کھیلوں کو زندہ رکھنے کے لیے وادی کالاش میں 2 روزہ میلے کا انعقاد

موت کا کنواں اسی انسانی تجسس کو پورا کرتا ہے۔ لوگ محفوظ مقام پر کھڑے ہو کر ایک ایسے مظاہرے کا مشاہدہ کرتے ہیں جس میں کامیابی اور حادثے کے درمیان فاصلہ بہت کم محسوس ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود یہ تماشا اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ایک زندہ ورثہ

موت کا کنواں محض ایک کھیل یا کرتب نہیں بلکہ انسانی ہمت، مہارت اور جرات کی علامت بن چکا ہے۔

جدید تفریحی دنیا میں جہاں بیشتر سنسنی کمپیوٹر اسکرینوں اور خصوصی اثرات کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے وہاں موت کا کنواں آج بھی حقیقی خطرے اور حقیقی مہارت پر قائم ہے۔

شاید یہی اس تماشے کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ بدلتے زمانوں، نئی ٹیکنالوجیز اور جدید تفریحی رجحانات کے باوجود یہ اب بھی لوگوں کو وہ سنسنی فراہم کرتا ہے جس کی تلاش انسان ہمیشہ سے کرتا آیا ہے۔

م،زید پڑھیے: گلگت بلتستان کے مختلف روایتی کھیلوں میں پولو سرفہرست

یہ صدی پرانا تماشا اب بھی لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے اور ہر نسل کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان: لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر

کوئٹہ میں اندوہناک واقعہ، مالی مشکلات کے شکار شخص نے اہلیہ اور 4 بچوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی

پنجاب اپنے این ایف سی حصے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، مجتبیٰ شجاع الرحمان

ویڈیو

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

جان بھی چلی جاتی تو افسوس نہ ہوتا، لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق کی داستان

بجٹ کی منظوری سے قبل بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، کن اہم امور پر گفتگو ہوئی؟

کالم / تجزیہ

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ