ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے توجہ میں واقع ہونے والی کمی کو بہتر کیسے بنایا جائے؟

پیر 16 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حالیہ برسوں میں ماہرینِ نفسیات اور محققین کے درمیان یہ بحث بڑھ رہی ہے کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انسانی توجہ اور ذہنی صلاحیتوں پر کیا اثرات ڈال رہی ہے۔

اسی تناظر میں ایک نیا رجحان ’فریکشن میکسنگ‘ کے نام سے سامنے آیا ہے، جس میں جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جن میں زیادہ وقت، صبر اور ذہنی محنت درکار ہو۔

یہ بھی پڑھیے: جین زی: رشتے اسکرینوں کے پیچھے چھپ گئے

تحقیقی مطالعہ کے مطابق مسلسل نوٹیفکیشنز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل آلات کا زیادہ استعمال انسانی توجہ کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکی جامعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اروائن کی محقق گلوریا مارک کی تحقیق کے مطابق 2004 میں کمپیوٹر اسکرین پر اوسط توجہ کا دورانیہ تقریباً ڈھائی منٹ تھا، جو 2016 تک کم ہو کر تقریباً 47 سیکنڈ رہ گیا۔ اس کمی کو بڑھتی ہوئی ملٹی ٹاسکنگ اور ڈیجیٹل خلل سے جوڑا جاتا ہے۔

ریسرچز یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک وقت میں کئی کام کرنے سے نہ صرف کسی کام کو مکمل کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے بلکہ غلطیوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار توجہ تبدیل کرنے سے ذہنی تھکن اور کارکردگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم اور مسئلہ پیدا کرنے والا سوشل میڈیا استعمال ڈپریشن، اضطراب اور توجہ کے مسائل سے منسلک پایا گیا ہے، خصوصاً نوجوانوں میں۔ تاہم کچھ مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سماجی رابطوں اور معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کے دل کے لیے خطرناک، نئی تحقیق نے والدین کو خبردار کر دیا

سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ’استعمال کرو یا کھو دو‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ سرگرمیاں جن میں ذہنی محنت درکار ہو، جیسے مطالعہ، موسیقی سیکھنا، کھیل کھیلنا یا پہیلیاں حل کرنا، دماغی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات سے بھی یہ ظاہر ہوا ہے کہ مشکل سیکھنے کے عمل سے دماغ میں نئے اعصابی خلیات زیادہ دیر تک متحرک رہتے ہیں۔

2024 میں انگلینڈ میں 7,000 سے زائد افراد پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تخلیقی سرگرمیوں جیسے دستکاری اور فنون میں حصہ لینے والے افراد میں زندگی سے اطمینان، خوشی اور مقصدیت کا احساس زیادہ پایا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایسی سرگرمیاں ذہنی دباؤ کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک بھر میں 1153 عدالتیں ججز سے محروم، لاکھوں مقدمات التوا کا شکار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

اسرائیل نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام ارکان کو رہا کردیے

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی سمندروں سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اسٹیل سے زیادہ مضبوط ہے، مریم نواز

ویڈیو

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی کا جشن، پاکستانی قیادت کا سی پیک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زور

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟