انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے، کیونکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے اعلان کیا ہے کہ اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن کے خلاف ایک نامعلوم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جو پیر کی صبح سویرے ایک نائٹ کلب میں پیش آیا تھا۔
ای سی بی کے مطابق یہ واقعہ ٹیم پروٹوکول کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، یہ معاملہ لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی 115 رنز سے فتح کے بعد پیش آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اتنا سنگین سمجھا جا رہا ہے کہ اسٹوکس اپنی کپتانی کے مستقبل پر بھی غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’تمہیں گیند کی حالت بھی دیکھنی چاہیے‘، بین اسٹوکس بال لگنے سے زخمی ہوگئے
ای سی بی نے پیر کی شام جاری بیان میں کہا کہ معاملہ کرکٹ ریگولیٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے، تحقیقات مکمل ہونے تک اسٹوکس اور اٹکنسن کے 17 جون سے اوول میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں شرکت نہ کرنے کا امکان ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی کھلاڑی کو جسمانی نقصان نہیں پہنچا، بتایا جاتا ہے کہ نائٹ کلب میں موجود سراسنز رگبی کلب کے چند افراد بھی اس واقعے میں شامل تھے، جو سیزن کے اختتام کی تقریبات منا رہے تھے۔
تنازع مبینہ طور پر گس اٹکنسن اور سراسنز کے ایک اکیڈمی کھلاڑی کے درمیان اختلاف رائے سے شروع ہوا۔
According to the rules set out by the ECB, it is hard to see Ben Stokes remaining as England captain.
If reports are to be believed, he and Gus Atkinson were not at fault for the incident at a Chelsea nightclub.
But they broke a midnight curfew at the first opportunity after… pic.twitter.com/Iq8BsnoVUY
— CricBlog ✍ (@cric_blog) June 8, 2026
ای سی بی کے بیان میں کہا گیا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد ٹیم پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تحقیقات جاری ہیں، بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن پیر کی علی الصبح ایک نائٹ کلب میں موجود تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔
’ہم مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور دوسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔‘
یہ تنازع ای سی بی کے لیے خاصی سبکی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ آسٹریلیا کے حالیہ دورے کے بعد انگلینڈ ٹیم نے کھلاڑیوں اور عملے کے لیے آدھی رات کا کرفیو نافذ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: تیسرا ایشز ٹیسٹ: بین اسٹوکس مچل اسٹارک کی گیند پر آؤٹ ہوکر آپے سے باہر، ویڈیو وائرل
اس دورے میں بھی کھلاڑیوں کے میدان سے باہر رویوں پر شدید تنقید ہوئی تھی۔
اسی سلسلے میں رواں سال ہیری بروک کو ایک رات گئے پیش آنے والے واقعے پر جرمانہ اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ جیکب بیتھل کو بھی انتباہ جاری کیا گیا تھا۔
اسی طرح بین ڈکٹ کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں دکھائی دیے تھے۔

ہیری بروک اس وقت انگلینڈ کے نائب کپتان ہیں اور اگر اسٹوکس تحقیقات کے دوران ٹیم سے باہر رہتے ہیں تو دوسرے ٹیسٹ میں کپتانی کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جا سکتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسٹوکس نے گزشتہ سال انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے۔
تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف فتح کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ’ایک اچھی بیئر‘ پینے کے منتظر ہیں۔
مزید پڑھیں: ’10 رنز سے کچھ نہیں بدلتا‘، بین اسٹوکس کا ’ہینڈ شیک‘ تنازع پر ردعمل
اسٹوکس کا کیریئر ماضی میں بھی نظم و ضبط کے مسائل سے متاثر رہا ہے، 2017 میں برسٹل میں ایک ایک روزہ میچ کے بعد وہ ایک سڑک پر جھگڑے میں ملوث پائے گئے تھے۔
اگرچہ عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا، تاہم ای سی بی نے کھیل کی بدنامی کا باعث بننے پر جرمانہ اور معطلی کی سزا دی تھی۔
ای سی بی نے تاحال نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ کا اعلان نہیں کیا ہے۔














