وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی )نے ‘نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر میں سات مصنوعی ذہانت کے مراکز قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کرنا اور 150 اسٹارٹ اپس کو ‘نان ڈائلیوٹِو’ سیڈ گرانٹس فراہم کرنا ہے، تاکہ پاکستان کو خطے میں اے آئی جدت کا مرکز بنایا جا سکے۔
قومی اے آئی پالیسی کے تحت اہم پیش رفت
یہ منصوبہ دراصل پاکستان کی ‘نیشنل اے آئی پالیسی’ کے نفاذ کا حصہ ہے اور اسے حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی اے آئی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے اب تک کی سب سے جامع کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ
اس اقدام کے ذریعے تعلیمی اداروں، صنعت، اسٹارٹ اپس، محققین، سرمایہ کاروں اور سرکاری شعبے کو ایک قومی فریم ورک کے تحت یکجا کیا جائے گا۔
کن شہروں میں ‘اے آئی ہبز’ قائم ہوں گے؟
وزارت کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق ایک واحد بولی دہندہ کمپنی یا مشترکہ کنسورشیم کا انتخاب کیا جائے گا، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں ان ‘اے آئی ہبز’ کو ڈیزائن، قائم اور آپریٹ کرے گا۔
جدید سہولیات پر مشتمل انوویشن سینٹرز
منتخب ادارہ ایسے مکمل فعال اے آئی انوویشن سینٹرز تیار کرے گا جن میں جدید دفتری انفراسٹرکچر، تیز رفتار انٹرنیٹ، تعاون کے لیے مخصوص جگہیں، ملٹی میڈیا سہولیات، رہنمائی کے کمرے اور اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص ورک اسپیس شامل ہوں گے۔
ان ہبز کو صحت، زراعت، تعلیم، فِن ٹیک، سرکاری حکمرانی اور اسمارٹ و پائیدار شہروں جیسے ترجیحی شعبوں میں عملی اے آئی ایپلی کیشنز پر توجہ مرکوز کرنے والے علاقائی مراکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
2 سالہ پروگرام میں 560 اسٹارٹ اپس کی شمولیت
2 سالہ پروگرام کے تحت ہر ہب میں فی کوہورٹ 20 اسٹارٹ اپس کو شامل کیا جائے گا اور سالانہ 2 کوہورٹس منعقد ہوں گی، جس کے نتیجے میں ہر ہب سالانہ 40 اسٹارٹ اپس اور مجموعی طور پر تمام سات مراکز میں سالانہ 280 اسٹارٹ اپس کو یہ سہولت میسر آئے گی۔
منصوبے کی 2 سالہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 560 اسٹارٹ اپس اس انکیوبیشن پروگرام سے استفادہ کریں گے۔
بوٹ کیمپس، ہیکاتھونز اور کمرشلائزیشن پر توجہ
انفراسٹرکچر کے علاوہ، منتخب بولی دہندہ کو اے آئی بوٹ کیمپس، ایکسلریٹر پروگرامز، انکیوبیشن سپورٹ، موضوعاتی اے آئی چیلنجز، ہیکاتھونز اور اسٹارٹ اپ مینٹرنگ پر مشتمل ایک جامع نظام تشکیل دینا ہوگا۔
منصوبے میں تجارتی بنیادوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت آپریٹر کو اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل فرمز، انکیوبیٹرز، ایکسلریٹرز، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مربوط کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری کی تیاری اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
150 اسٹارٹ اپس کے لیے سیڈ گرانٹس کا میکنزم
پروگرام کے اہم ترین اجزا میں سے ایک 150 اسٹارٹ اپس کے لیے ‘نان ڈائلیوٹِو’ سیڈ گرانٹس کی فراہمی ہے۔
گرانٹ کی مالی معاونت خود وزارت فراہم کرے گی اور یہ ٹھیکیدار کی مالیاتی تجویز کا حصہ نہیں ہوگی، تاہم منتخب بولی دہندہ ملک گیر سطح پر شفاف طریقہ کار وضع کرے گا جو رسائی، درخواستوں کی پروسیسنگ، تکنیکی جانچ، انتخاب، گرانٹ کی تقسیم، نگرانی اور ایوارڈ کے بعد معاونت جیسے مراحل پر مشتمل ہوگا۔
وزارت نے واضح ہدایت دی ہے کہ یہ فنڈنگ پروگرام میرٹ پر مبنی ہو اور واضح کارکردگی کے اشاریوں، سنگ میل کی بنیاد پر ادائیگیوں اور مضبوط نگرانی کے طریقہ کار سے مزین ہو۔
قومی ہیکاتھونز اور آگاہی مہمات
ملک بھر میں جدت کو فروغ دینے کے لیے آپریٹر 2 ‘قومی اے آئی ہیکاتھونز’ اور 4 ‘اے آئی آگاہی سیشنز’ بھی منعقد کرے گا، جن میں طلبہ، کاروباری افراد، محققین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین کو یکجا کیا جائے گا تاکہ اے آئی کو اپنانے کی رفتار تیز ہو اور تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
ان آگاہی مہمات کو ایسے منظم صلاحیت سازی پروگراموں سے مربوط کیا جائے گا جن کا مقصد اسٹارٹ اپس، پیشہ ور افراد، جامعات کے طلبہ اور سرکاری اہلکاروں میں اے آئی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔
طویل المدتی مالی استحکام اور شفاف نگرانی
وزارت کی توقع ہے کہ ‘اے آئی ہب’ آپریٹر صنعتی شراکت داریوں، رکنیت پروگراموں، اسپانسر شدہ اقدامات، کمرشل تربیتی خدمات اور گرانٹس کے ذریعے طویل المدتی مالی استحکام کے ماڈل تیار کرے گا، تاکہ وقت کے ساتھ حکومتی فنڈنگ پر انحصار کم ہو سکے۔
مزید پڑھیں:اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
اس کے علاوہ منتخب بولی دہندہ ایسے گورننس فریم ورک، آپریشنل تعمیلی نظام، نگرانی کے ٹولز، اثرات کے جائزے کے میکنزم اور وقتاً فوقتاً رپورٹنگ کے ڈھانچے بھی قائم کرے گا جو وزارت کی نگرانی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
عالمی جامعات اور تحقیقی اداروں سے اشتراک
منصوبے کے تحت آپریٹر کو جامعات، تحقیقی مراکز، سرکاری اداروں اور ملکی و بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ عالمی اے آئی تحقیقی نیٹ ورکس سے بھی اسٹریٹجک شراکت داری استوار کرنی ہوگی، تاکہ باہمی تحقیق، پائلٹ منصوبوں اور اے آئی مصنوعات کی تجارت کاری کو ممکن بنایا جا سکے۔
خواتین اور پسماندہ علاقوں کی شمولیت پر زور
جامع جدت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے بولی دہندگان کو ہدایت دی ہے کہ وہ پروگرام کے نفاذ کے دوران خواتین اور دیہی و پسماندہ کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کی بامعنی شرکت یقینی بنائیں، جو پاکستان کے ‘اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف’ کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔
معاہدے کی مدت
ابتدائی طور پر یہ معاہدہ ایک سال کے لیے دیا جائے گا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال کی توسیع کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔ تاہم بولی دہندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی مالیاتی تجاویز مکمل 2 سالہ عرصے کو مدنظر رکھتے ہوئے جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
‘نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو’ کا آغاز اس بات کا عندیہ ہے کہ حکومت اب محض پالیسی سازی سے آگے بڑھ کر ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ تعمیر کرنا چاہتی ہے جو اے آئی کاروباری صلاحیت، ہنر مندی کی نشوونما اور تجارت کاری کو وسیع پیمانے پر سہارا دے سکے۔
اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر مستحکم کر سکتا ہے۔
کیونکہ اس سے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مربوط قومی پلیٹ فارم پر جوڑا جا سکے گا، جو بالآخر ملک کو ایک علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔














