پاکستان روس تعلقات میں بڑی پیشرفت، اویس لغاری نے نئی حکمتِ عملی دنیا کے سامنے رکھ دی

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر انتظام پاک روس دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر ایک اہم ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

ویبینار میں پاکستان اور روس کے ممتاز سفارتکاروں، اسٹریٹیجک ماہرین اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نیاز ترمذی بھی مقررین میں شامل تھے، اس موقع پر طارق فاطمی نے روسی زبان میں خطاب کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن اجلاس اختتام پذیر، اہم مفاہمتی یادداشتوں اور پروٹوکول پر دستخط

پاک روس تعلقات قابلِ اعتماد شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں، اویس لغاری

وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان اور روس کے تعلقات اب قابلِ اعتماد شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، صنعت، دفاع، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقاتوں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار دی ہے، جبکہ صدر پیوٹن کا بیان پاکستان کی عالمی اہمیت کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے۔

اویس لغاری کے مطابق پاک روس بین الحکومتی کمیشن دوطرفہ تعلقات کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان و روس کے درمیان انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی تعاون کے مؤثر ادارہ جاتی نظام بھی قائم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر قریبی تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا خواہاں ہے، جو علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ مفادات پر زور

ویبینار کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030 تک اقتصادی تعاون کا پروگرام دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، جبکہ کازان فورم 2026 میں پاکستان کی بڑی شرکت روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کا مظہر ہے۔

شرکا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو روسی قیادت نے سراہا ہے اور پاکستان ایک اہم سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان جغرافیائی حیثیت کے اعتبار سے روس کے لیے بحیرہ عرب تک رسائی کا قدرتی گیٹ وے بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے یوریشیا اور بحیرۂ عرب کے درمیان ایک اہم رابطہ بھی بناتی ہے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان جی ڈی پی، آبادی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مغربی ایشیا میں ایک نمایاں قوت بن کر ابھرے گا، جبکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور دفاعی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان آج علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ پاکستان روسی سرمایہ کاروں کو پاکستان اسٹیل مل سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے۔

افغانستان اور دہشتگردی خطے کے لیے بڑا چیلنج

شرکا نے کہاکہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی روس سمیت پورے خطے کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ افغانستان، انسدادِ دہشتگردی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں اور خطے کے ممالک کو ایک مضبوط اور پائیدار علاقائی سیکیورٹی نظام تشکیل دینا ہوگا۔

شرکا کے مطابق افغانستان کے حوالے سے علاقائی ممالک کو سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

قومی خودمختاری اور عالمی نظام پر مباحثہ

ویبینار کے مقررین نے کہاکہ ایک وقت میں قومی خودمختاری کو کمزور تصور کیا گیا، مگر حالیہ عالمی حالات نے ثابت کیاکہ ریاستیں ہی سلامتی، استحکام اور سیاسی جواز کی اصل ضامن ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عالمگیریت اور کثیرالجہتی تعاون کے باوجود قومی خودمختاری آج بھی عالمی سیاست کی بنیادی حقیقت ہے، جبکہ حالیہ عالمی پیشرفت نے واضح کردیا ہے کہ ریاستیں اب بھی سیکیورٹی اور استحکام کی مرکزی قوت ہیں۔

شرکا نے کہاکہ ایران جنگ نے روایتی سیکیورٹی نظام کی محدودیت کو بے نقاب کردیا اور موجودہ ڈھانچے کشیدگی روکنے میں ناکام رہے۔

ان کے مطابق دنیا تبھی محفوظ ہوگی جب سب محفوظ ہوں اور سلامتی ناقابلِ تقسیم ہے، جبکہ دنیا کو محاذ آرائی نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی کو فروغ دینے والے اداروں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ عالمی اقتصادی طاقت اب زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم ہو چکی ہے اور پرانا نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔

روسی میڈیا میں پاکستان کی کوریج محدود ہے، دیمتری سائمز

روسی نژاد امریکی سیاسی تجزیہ کار دیمتری سائمز نے کہا کہ روسی میڈیا میں پاکستان کی کوریج محدود ہے کیونکہ تعلقات میں اب بھی کئی پرانے تصورات اور خلا موجود ہیں۔

انہوں نے کہاکہ روسی میڈیا عموماً خطرات اور قریبی اتحادیوں پر توجہ دیتا ہے اور پاکستان ان دونوں خانوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی صحافیوں کو پاکستان کو زیادہ فعال انداز میں کور کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ بعض ممالک کو ان کی سیاسی اہمیت سے زیادہ میڈیا توجہ ملتی ہے اور یہ عالمی کوریج کا ایک بڑا چیلنج ہے۔

دیمتری سائمز نے کہاکہ پاکستان سے متعلق تحقیقی اور تجزیاتی مواد کی طلب روس اور پاکستان، دونوں جانب بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان پر ہماری توجہ اور وسائل میں 40 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ہمارے تیزی سے ابھرتے ہوئے سامعین میں شامل ہے جو باقاعدہ تجزیاتی مواد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت میڈیا کا مستقبل تشکیل دے رہی ہے، طلعت حسین

سینیئر صحافی طلعت حسین نے اپنے خطاب میں کہاکہ صحافت تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت میڈیا کے مستقبل کو تشکیل دے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اپنے 35 سالہ صحافتی تجربے میں پہلی بار ایسی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جو زبان اور مواد کی تخلیق کو یکسر بدل رہی ہے۔

طلعت حسین کے مطابق مصنوعی ذہانت میڈیا انڈسٹری کے لیے چیلنج بھی ہے اور غیرمعمولی مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان روس کے ساتھ توانائی اور بارٹر تجارت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور روس کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ روس سے متعلق پاکستانی عوام کی آگاہی محدود ہے اور اس خلا کو میڈیا اور عوامی روابط کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ ڈیجیٹل مواد اور میڈیا تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان