پیرو کی خاتونِ اول سے صدارتی امیدوار تک، کیئکو فوجیموری کا سفر

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیرو کی سابق خاتونِ اول اور ملک کے سابق صدر البرٹو فوجیموری کی صاحبزادی کیئکو فوجیموری ایک بار پھر صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کے لیے میدان میں ہیں۔

51 سالہ کیئکو اس سے قبل 2011، 2016 اور 2021 کے انتخابات میں شکست کھا چکی ہیں، تاہم اس بار بعض جائزوں کے مطابق وہ اپنے بائیں بازو کے حریف رابرٹو سانچیز پر معمولی برتری رکھتی ہیں۔

کیئکو فوجیموری پہلی مرتبہ 1994 میں عالمی سطح پر اُس وقت منظرِ عام پر آئیں جب 19 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی والدہ سوسانا ہیگوچی سے والد کی علیحدگی کے بعد پیرو کی خاتونِ اول کا کردار سنبھالا۔

یہ بھی پڑھیں: لاطینی امریکا میں ہیروز، آمریتیں اور مادورو سے پہلے کی سیاسی تاریخ

ان کی والدہ نے اس وقت حکومت میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد کیئکو کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔

انتخابی مہم کے دوران کیئکو فوجیموری خود کو امن و امان، معاشی استحکام اور سیاسی نظم و ضبط کی بحالی کے لیے بہترین متبادل قرار دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیرو مسلسل سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کا شکار رہا، جہاں 10 برس میں 8 صدور تبدیل ہوئے جبکہ بدعنوانی، جرائم اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا۔

صدارتی مباحثے میں انہوں نے کہا کہ ملک کو سرمایہ کاری، روزگار اور عام زندگی کی بحالی کے لیے نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق موجودہ انتخاب ان کی ذات کے بارے میں نہیں بلکہ اس بات کے بارے میں ہے کہ پیرو آئندہ 5 برسوں میں کس سمت جانا چاہتا ہے۔

کیئکو فوجیموری نے 2000 میں رکنِ پارلیمان کے طور پر سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا اور بعد ازاں ’فورسا پاپولر‘ یعنی پاپولر فورس جماعت قائم کی۔

مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کے رہنما اسرائیل مخالف مؤقف کیوں اپناتے ہیں؟

انہیں برازیلی تعمیراتی کمپنی اوڈیبریخت سے انتخابی مہم کے لیے فنڈز لینے کے الزام میں تفتیش کا سامنا بھی کرنا پڑا اور وہ 13 ماہ جیل میں رہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

جنوری 2025 میں عدالت نے ان کے خلاف مقدمہ کالعدم قرار دے دیا، جبکہ کیئکو کا مؤقف ہے کہ وہ ایک دہائی تک سیاسی انتقام کا نشانہ بنتی رہیں۔

2021 کے متنازع صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد کیئکو نے اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔

انہوں نے ماضی کی بعض غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے سبق سیکھ چکی ہیں۔

اس مرتبہ انہوں نے نسبتاً معتدل، پرسکون اور کم جارحانہ طرزِ سیاست اختیار کیا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق وہ خود کو صرف کمیونزم مخالف امیدوار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے وسیع تر ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: مادورو کی گرفتاری کے بعد کیوبا شدید معاشی و سیاسی بحران کے دہانے پر

تاہم ان کی راہ اب بھی آسان نہیں، ان کے والد، سابق صدر البرٹو فوجیموری کا متنازع سیاسی ورثہ آج بھی پیرو کی سیاست میں گہرا اثر رکھتا ہے۔

البرٹو فوجیموری نے 1990 سے 2000 تک ملک پر حکومت کی، ان کے حامی انہیں معاشی تباہی سے ملک کو نکالنے اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا کریڈٹ دیتے ہیں۔

جبکہ ناقدین انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، انہی مقدمات میں انہیں 2009 میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ 2024 میں انتقال کر گئے۔

کیئکو فوجیموری کے خلاف ’کیئکو نو وا‘ یعنی کیئکو کامیاب نہیں ہوگی، کے نعرے کے تحت انسانی حقوق کی تنظیموں، طلبہ اور شہری گروہوں نے حالیہ دنوں میں دارالحکومت لیما میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کے ذریعے ملک کے سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوری میں حصہ دار رہی ہے۔

دوسری جانب ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ کیئکو فوجیموری اب پہلے سے زیادہ تجربہ کار اور سیاسی طور پر پختہ ہو چکی ہیں۔

ان کے مطابق وہ آزاد منڈی کی معیشت، نجی سرمایہ کاری، آئینی نظام اور سیاسی استحکام کے لیے بہتر انتخاب ہیں، جبکہ ان کے حریف رابرٹو سانچیز کی معاشی پالیسیوں پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

پیرو میں ووٹنگ لازمی ہے، لیکن حالیہ جائزوں کے مطابق بڑی تعداد میں ووٹرز اب بھی غیر فیصلہ کن ہیں۔ کچھ لوگ ’کم تر برائی‘ کے اصول پر ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ بعض بیلٹ پیپر مسترد کرنے کے حامی ہیں۔

تقریباً 3 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سیاسی سفر کے بعد کیئکو فوجیموری اب ایک بار پھر اس امید کے ساتھ میدان میں ہیں کہ وہ پیرو کی صدارت حاصل کر کے گزشتہ ناکامیوں کا ازالہ کر سکیں اور ملک کی 9ویں صدر بن جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp