سزائے موت کالعدم،سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں ملزمان بری کر دیے

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں۔

جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایم کیو ایم کی جانب سے ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ فیصلہ ہی کالعدم ہو چکا ہے اس لیے ریمارکس ازخود ختم ہو جاتے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا، جبکہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔

جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ اگر چند افراد کو فریق بنایا جائے تو مزید درخواستیں آ جائیں گی اور فریقین کی تعداد بڑھنے سے مقدمہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ فریقین ہونے کی صورت میں وکلاء کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے سماعت متاثر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آگ سے میرا یا حماد صدیقی کا کوئی تعلق نہیں، مجرم رحمان بھولا

سماعت کے دوران عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں یہ رائے دی گئی تھی کہ ایم کیو ایم کا کراچی پر کنٹرول تھا، جس کے باعث گواہان خاموش رہے۔ تاہم عدالت نے اس معاملے پر مختلف نکات پر سوالات اٹھائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ زبیر عرف چریا کا اعترافی بیان موجود ہے جبکہ عبدالرحمان عرف بھولا کا ایسا کوئی بیان ریکارڈ پر نہیں آیا۔ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر بعض الزامات سیاسی جماعت سے متعلق تھے تو دیگر افراد کی بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔

جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ کسی سیاسی جماعت کے سیکٹر انچارج کی تبدیلی کو جرم کے طور پر کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن ایک افسوسناک واقعہ ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

سماعت کے دوران فروغ نسیم نے مؤقف اپنایا کہ 2016 کی ایک تقریر کے بعد الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے نکالا گیا تھا، جبکہ دیگر ریمارکس میں مختلف ادوار کا حوالہ بھی دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ بلدیہ فیکٹری: رحمان بھولا اور زبیر چریا کی پھانسی کی سزا برقرار

عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص خود کو کسی عہدے پر فائز ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کے لیے ثبوت دینا ضروری ہوگا۔ جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ ماضی کی سیاسی تقاریر کو یکساں تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ زبیر چریا کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ وہ ایم کیو ایم کا رکن تھا، جبکہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری میں کیمیکل استعمال ہونے کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کا کیس کئی پہلوؤں سے کمزور ہے۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ اگر مقصد صرف بھتہ لینا تھا تو مزدوروں کو قتل کرنے کا جواز کیا بنتا ہے۔

یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا تھا، جس میں فیکٹری میں آگ لگنے سے 259 افراد جاں بحق جبکہ 59 زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے تفصیلی حقائق فیصلے کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری اقدامات، کس پر پابندی، کس کو استثنیٰ ؟، اسلام آباد میں نئے کاروباری اوقاتِ کار کا اعلان

انسٹاگرام صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

اینتھروپک نے طاقتور اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا، حساس شعبوں میں حفاظتی پابندیاں برقرار

خیبر پختونخوا میں بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کا الرٹ جاری

امن معاہدہ: ایران نے بہت وقت ضائع کیا ہے، تاخیر کی قیمت چکانی پڑے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟