جالندھر: بھارتی فوج کے جبر کے خلاف احتجاج، مقامی آبادی کا سخت ردعمل

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاست پنجاب میں بھارتی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مبینہ ہراساں کن رویے کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جہاں شہریوں نے فوجی اور پولیس اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گرو ارجن دیو جی کے 420ویں یوم شہادت کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی کی اور شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے بار بار چیکنگ، سخت نگرانی اور جارحانہ طرز عمل نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

احتجاج میں کمیونٹی رہنماؤں، تاجروں، کسانوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی جنہوں نے سخت سکیورٹی اقدامات کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہونے اور شہری آزادیوں پر قدغن لگنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

جالندھر کینٹ میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج کے دوران دکانداروں اور مقامی رہائشیوں نے بازار بند کر کے فوج اور پولیس کی جانب سے قائم متعدد چیک پوسٹوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیے: پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل سیکیورٹی چیکنگ کے باعث خریداروں کی آمد کم ہو گئی ہے، کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور مقامی تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کئی مظاہرین نے نقل و حرکت پر پابندیوں اور طلبہ، مسافروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ عوامی سہولت اور سکیورٹی کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب ضلع مہت پور میں ایک 22 سالہ نوجوان کی پولیس کارروائی کے دوران ہلاکت کے بعد مقامی شہریوں اور کسان تنظیموں کے ارکان نے مہت پور پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکام نوجوان کی ہلاکت کے حوالے سے تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہے ہیں۔

بعد ازاں پولیس حکام کی جانب سے غیرجانبدارانہ تحقیقات، متاثرہ خاندان کو مالی معاوضے اور مقتول کے اہلخانہ کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ تحقیقات کے عمل کی نگرانی جاری رکھیں گے اور اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

ان واقعات نے بھارتی پنجاب میں سکیورٹی فورسز کے کردار اور طرزِ عمل سے متعلق بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے سکیورٹی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب کے بعض حلقوں میں سکیورٹی کارروائیوں اور ان کے روزمرہ زندگی پر اثرات کے حوالے سے تحفظات اور شکایات بدستور موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں شرحِ پیدائش پہلی مرتبہ آبادی برقرار رکھنے کی حد سے نیچے

یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بھی سکھ علیحدگی پسند کارکنوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جہاں مظاہرین نے بھارتی حکومت اور فوج کے خلاف نعرے لگائے اور سکھ سیاسی مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی بجٹ 12 جون کو، اقتصادی جائزہ کل جاری کیا جائے گا، پیٹرول پر ریلیف، 13 کھرب روپے ٹیکس ہدف مقرر

ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر لاکھوں بیرل تیل منتقل کرنے کا دعویٰ

مٹسوبشی نے نئی الیکٹرک کار ‘اکلپس اسپورٹ بیک’ متعارف کرادی، خصوصیات کیا ہیں؟

امریکا نے روکا، عوام نے دلوں کے دروازے کھول دیے، صومالی فٹبال ریفری کا واپس وطن پہنچنے پر بادشاہوں جیسا استقبال

تھرپارکر: اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کا واقعہ، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

ذہنی سکون کا راز کن چیزوں میں پوشیدہ؟ اسلام اور سائنس کی روشنی میں جانیے

پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، تمام اہلکار شہید، کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں بھارت سے رابطے بے نقاب

کلمے کے نام پر بننے والے ملک کی مخالفت اسلام کے خلاف، مسلح جدوجہد حرام ہے : مفتی محمد کریم خان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟