گرو ارجن دیو جی کے 420ویں یومِ شہادت اور سالانہ جور میلہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے سکھ یاتریوں کا قافلہ بدھ کے روز پاکستان پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مذہبی تقریبات میں شرکت، پاکستان نے 737 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے
دونوں ممالک کے سکھ زائرین 14 برس بعد پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر ان مذہبی تقریبات میں شریک ہوں گے جسے پاک-بھارت سکھ برادری کے تعلقات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واہگہ بارڈر پر استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بتایا کہ بھارت سے تقریباً 700 سکھ یاتری پاکستان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سکھ برادری اس موقع کی منتظر تھی اور اس سال بھارتی یاتریوں کی آمد ایک تاریخی لمحہ ہے۔
رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ پاکستان امن، مذہبی ہم آہنگی اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے کیونکہ سکھ مذہب کے کئی مقدس مقامات اسی سرزمین پر واقع ہیں۔
مزید پڑھیے: لاہور میں سکھ یاتریوں کے اعزاز میں کلچرل نائٹ، حضوری باغ رنگا رنگ تقریب سے جگمگا اٹھا
انہوں نے حال ہی میں امریکا میں ملنے والے ایک اعزاز کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاکستان کے عوام اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام منسوب کیا اور کہا کہ یہ اعزاز سکھ یاتریوں کی فلاح و بہبود اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کاوشوں کا اعتراف ہے۔
بھارتی سکھ وفد کے سربراہ سردار پرمجیت سنگھ نے کہا کہ گرو ارجن دیو جی کے یومِ شہادت کی تاریخ کے تعین سے متعلق مسائل گزشتہ 14 برس سے موجود تھے تاہم اب دونوں جانب اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد مشترکہ تقریبات کا انعقاد ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے سکھ یاتریوں کے لیے بہترین انتظامات اور پرتپاک استقبال پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک اور سکھ رہنما گرمیٹ سنگھ گیگی نے کہا کہ 14 سال بعد دونوں ممالک کے سکھ زائرین کا ایک ساتھ یومِ شہادت منانا خوش آئند اور یادگار موقع ہے۔ انہوں نے تقریبات کے انعقاد میں پاکستانی حکام کے تعاون کو سراہا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق نے بتایا کہ اس موقع پر بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے 737 ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ شہادت اور جور میلہ کی مرکزی تقریب 16 جون کو لاہور کے گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقد ہوگی۔
مزید پڑھیں: سکھ یاتری خاتون کی پاکستانی شہری سے شادی، اداروں کی جانب سے تلاش کا سلسلہ جاری
ناصر مشتاق کے مطابق ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے واہگہ بارڈر پر یاتریوں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔ شدید گرمی کے پیش نظر ٹھنڈے پانی، ریفریشمنٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ امیگریشن اور کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو بھی تیز تر بنایا گیا۔

حکام کے مطابق تمام متعلقہ اداروں نے مذہبی رسومات اور تقریبات کے پُرامن اور منظم انعقاد کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ بھارتی سکھ یاتریوں کو بعد ازاں خصوصی بسوں کے ذریعے ننکانہ صاحب روانہ کر دیا گیا جہاں وہ اپنے مذہبی فرائض انجام دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ’دل کرتا ہے اپنا امریکی پاسپورٹ پھاڑ کر پاکستان میں ہی رہ جاؤں‘، سکھ یاتری کا پاکستانیوں سے محبت کا اعتراف
سکھ رہنماؤں اور حکام کا کہنا ہے کہ 14 برس بعد مشترکہ تقریبات کا انعقاد دونوں ممالک کے سکھوں کے درمیان مذہبی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔














