ایران نے آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کا حکم دیدیا ہے، خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی اور امریکی حملوں کے بعد خلیج میں کشیدگی نئی بلندیوں پر پہنچ گئی
امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟
ایرانی فوجی حکام کے مطابق پابندی کا اطلاق صرف جنگی جہازوں تک محدود نہیں بلکہ تیل بردار اور تجارتی جہاز بھی اس میں شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز میں 2 جہازوں کو نشانہ بھی بنایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
U.S. forces have completed a new round of strikes inside Iran, according to U.S. Central Command.
CENTCOM says U.S. Marine Corps, Air Force, and Navy assets targeted Iranian military surveillance capabilities, communication systems, and air defense sites at the Commander in… pic.twitter.com/muVPsabuI1
— Fox News (@FoxNews) June 11, 2026
دوسری جانب امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکی بحری افواج اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ امریکی فورسز نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔
ایران کے مختلف علاقوں میں بھی کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ فارس، مغربی تہران، بندر عباس، میناب، سیرک، قشم، ہینگام، جزیرہ کیش اور بندرگاہ گرگان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر فضائی دفاعی نظام کو متحرک کردیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی دفاعی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی ’مسلسل اور بلاجواز جارحیت‘ کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ایران میں فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے حملوں کے بعد ایران کا جوابی کارروائیوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
اسی دوران ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے مذاکراتی تجاویز پر جواب نہ ملنے پر شدید برہم تھے اور اسی مایوسی کے نتیجے میں انہوں نے نئی فوجی کارروائی کی منظوری دی۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مجوزہ سمجھوتے پر کئی ہفتوں سے پس پردہ رابطے جاری تھے، تاہم ایرانی ردعمل میں تاخیر نے واشنگٹن میں بے چینی پیدا کردی تھی۔
🇺🇸JUST IN: The U.S. Air Force has launched a fresh wave of major airstrikes.
Over 30 American fighter jets are currently hammering IRGC targets across Iran, with huge explosions reported in Tehran.
President Trump is not holding back. The regime is facing real consequences. pic.twitter.com/KqINtIVM4t
— And We Know©🇺🇸 (@andweknow) June 11, 2026
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا، تاہم اصل مسئلہ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر طویل خاموشی تھا۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن کی کوشش تھی کہ دباؤ بڑھایا جائے لیکن جانی نقصان سے گریز کیا جائے تاکہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو۔
ادھر قطر سمیت علاقائی ثالث بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف رہے، تاہم پیشرفت نہ ہوسکی۔ امریکی حکام کے مطابق حملوں کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن اگر تہران مزید تاخیر کرتا ہے تو اسے اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم دھمکیوں یا دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں، لیکن اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو ایران ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
Iran is being hit harder than anything we’ve seen. 👀 pic.twitter.com/bwvB2aYaFJ
— USA NEWS 🇺🇸 (@usanewshq) June 11, 2026
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ ایران بیرونی جارحیت کے سامنے سر جھکا دے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی وقار اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کرے گا۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ بعض قوتیں خطے کے عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، تاہم ایرانی سفارت کاری نے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح غزہ کو مسلسل بمباری کے باوجود سرینڈر نہیں کرایا جا سکا، اسی طرح ایران کو بھی طاقت کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے عالمی منڈیوں، توانائی کی ترسیل اور خطے کے امن سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔














