امریکی فوج کی جانب سے ایران پر جوابی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں حملے کیے گئے، جنہیں امریکی حکام نے ’متناسب جواب‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام اور ریڈارز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کارروائی کئی مراحل پر مشتمل تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ردعمل ’بہت مضبوط اور طاقتور‘ ہونا چاہیے۔
⚠️ MAJOR ESCALATION: TRUMP LAUNCHES FRESH STRIKES AGAINST IRAN
US launched new strikes against IRGC targets in a ‘Proportional response’ after Iran reportedly shot down an American Apache Helicopter. pic.twitter.com/GmrE4J9eVR
— Coin Bureau (@coinbureau) June 10, 2026
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، اردن کے الازرق فوجی اڈے اور کویت کے علی السالم اڈے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایف 35 ہینگرز، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں مزید سخت جواب دیا جائے گا۔
امریکی اور ایرانی بیانات کے بعد خطے میں فوجی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ بحرین اور کویت میں مبینہ حملوں کے بعد حفاظتی اقدامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔













