بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ مسلح حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث عام شہریوں میں تشویش اور بے یقینی کی فضا پائی جا رہی ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات سخت ہونے کے بعد شاہراہوں پر آمد و رفت، تجارتی سرگرمیوں اور سفر کے معمولات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے مستونگ کے رہائشی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہر نئے واقعے کے بعد خوف کی کیفیت مزید بڑھ جاتی ہے اور لوگ غیر ضروری سفر سے گریز کرنے لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
تربت کے ایک مقامی تاجر عبدالکریم (فرضی نام) نے بتایا کہ جب بھی کسی حملے کی خبر آتی ہے تو بازاروں میں گاہک کم ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کی پہلی ترجیح اپنی حفاظت بن جاتی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان طالب علم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات پرامن ہوں تاکہ ہم اپنی تعلیم اور مستقبل پر توجہ دے سکیں۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق تشدد اور بدامنی کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے، جن کا براہِ راست کسی تنازع سے تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بعض علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں، کاروباری منصوبے اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے امن، سیاسی استحکام اور ترقیاتی مواقع ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق تشدد کے واقعات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نہ صرف مقامی آبادی بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی اور سماجی ترقی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق یا پروپیگنڈا؟ بھارت اور بی ایل اے کے متضاد بیانیوں کا پول کُھل گیا
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور تمام متعلقہ فریق ایسے اقدامات کریں جن سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہو اور عوام خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لوگ امن، تعلیم، روزگار اور ترقی کے خواہاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی خوف اور بے یقینی سے آزاد ہو۔














