وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگراں حکومت کی جانب سے کی جانے والی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ نگراں حکومت ریاستی امور کی محض عارضی نگران ہوتی ہے اور اسے بنیادی نوعیت کے پالیسی فیصلے کرنے یا نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا میں نگران دور حکومت کے دوران ہونے والی بھرتیوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
درخواست گزار نعمان احمد، مسز فاطمہ، سید جمال شاہ، اویس کرنی، مسز فریال اور دیگر نے پشاور ہائیکورٹ کے 3 جولائی 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
ہائیکورٹ نے یکساں قانونی اور حقائق پر مبنی معاملات پر مشتمل ان درخواستوں کو ناقابلِ سماعت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپیلیں بھی مسترد کر دیں اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے پہلے دن کام کا آغاز کس طرح سے کیا؟
جسٹس روزی خان بریچ کے تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک طے شدہ آئینی اصول ہے کہ نگران حکومت ریاستی مشینری کی صرف عارضی نگراں ہوتی ہے اور اسے بنیادی نوعیت کے پالیسی فیصلے تشکیل دینے یا نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
عدالت کے مطابق نگران حکومت کا کردار انتظامی تسلسل برقرار رکھنے، غیر جانبداری کو یقینی بنانے اور آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے تک محدود ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اس محدود مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے کیے جانے والے اقدامات، جن میں مستقل تقرریاں، پالیسی فیصلے یا ایسے مالی وعدے شامل ہوں جن کے طویل المدتی اثرات ہوں، قانونی حدود سے انحراف تصور ہوں گے اور عدالتی جانچ کے دائرے میں آئیں گے۔
مزید پڑھیں: انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر
عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں درخواست گزار آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 25 کے تحت اپنے بنیادی حقوق کی کسی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور نہ ہی دستیاب ریکارڈ سے ایسی کسی خلاف ورزی کا ثبوت ملتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگراں حکومت کی جانب سے کی گئی بھرتیاں غیر قانونی تھیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کی ویب سائٹ کا اجرا
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی قانون بعض افراد کو متاثر کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔














