امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج رات ایران کو ’بہت سخت جواب‘ دے گا جبکہ مستقبل قریب میں ایران کے اہم تیل و گیس کے مراکز پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام، فضائی دفاع اور زیادہ تر عسکری صلاحیت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں خارگ جزیرے اور دیگر اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کرکے ایران کی تیل و گیس مارکیٹوں کا مکمل انتظام سنبھال سکتا ہے۔
— Department of State (@StateDept) June 11, 2026
ٹرمپ نے اس ممکنہ حکمت عملی کا موازنہ وینزویلا سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں امریکی اقدامات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقدامات کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر لاکھوں بیرل تیل منتقل کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے اہم مرکز ہے اور اس کے بارے میں ٹرمپ کی تازہ دھمکی خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ سخت ترین حملوں کا اعلان
ادھر عالمی منڈیوں میں ٹرمپ کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بین الاقوامی تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔













