ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے ایک انتہائی انوکھے اور بڑے منصوبے کا انکشاف کیا ہے، جس کے تحت اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی کمپیوٹنگ کو زمین سے منتقل کر کے خلا میں پہنچایا جائے گا۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ زمین پر موجود بڑے ڈیٹا سینٹرز کو جگہ کی کمی، بجلی کی بھاری مانگ اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے شدید ماحولیاتی اور عوامی مخالفت کا سامنا ہے، خلا میں کمپیوٹنگ منتقل کرنے سے یہ تمام مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ
اس منصوبے کے تحت خلا میں ایسے مخصوص سیٹلائٹس کا ایک پورا نیٹ ورک یعنی کانسٹلیشن بھیجا جائے گا جو کمپیوٹر کے بڑے ریکس سے لیس ہوں گے اور آپس میں لائیو جڑ کر فضا کے اوپر ایک طاقتور ’سپر کمپیوٹر‘ کی طرح کام کریں گے۔
ان سیٹلائٹس کو چلانے کے لیے سولر پینلز اور ان کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے ہیٹ ریڈی ایٹرز استعمال کیے جائیں گے، جبکہ یہ سیٹلائٹس زمین پر موجود صارفین اور پرانے سٹار لنک نیٹ ورک کے ساتھ تیز رفتار لیزر لنکس اور اینٹینا کے ذریعے رابطہ رکھیں گے تاکہ ڈیٹا بنا کسی تاخیر کے منتقل ہوسکے۔
مسک کا کہنا ہے کہ اس خلائی سپر کمپیوٹر کو بنانے کے لیے زیادہ تر تکنیکی تیاری ان کے اگلے بلاک کے براڈبینڈ سیٹلائٹس یعنی اسٹار لنک وی3 کے لیے پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہے، اس لیے یہ کام ان کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کے اے آئی کے سیٹلائٹس منصوبے کو کیا مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں؟
چونکہ اتنے بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ نیٹ ورک سنبھالنے کا تجربہ دنیا میں صرف اسپیس ایکس کے پاس ہی ہے، اس لیے مسک اسے اپنی کمپنی کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔
اس پورے مشن کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے اسپیس ایکس 2026 کے آخر تک خلا ہی میں ایک ایسی مخصوص فیکٹری شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو صرف ان AI سیٹلائٹس کو تیار کرے گی۔
اگرچہ خلا میں ڈیٹا سینٹر بنانے کا یہ تصور اب تک دنیا کی کسی بھی کمپنی نے عملی طور پر سچ ثابت نہیں کیا، لیکن اسپیس ایکس اس چیلنج کو عبور کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔













