مقبوضہ کشمیر کی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر چیپٹر کے کنوینر غلام محمد صفی نے کشمیریوں کے پاکستان مخالف ہونے کے تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کا مضبوط وکیل رہا ہے اور تنازع کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اس کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
آزاد جموں کشمیر میں ’کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی’ کے احتجاج کے تناظر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غلام محمد صفی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کشمیری عوام پاکستان مخالف ہیں، حالانکہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے کون سے اہم مطالبات منظور ہو چکے ؟ کمیٹی مزید ناروا مطالبات سے کیا چاہتی ہے؟
انہوں نے کہاکہ ’ہم آج اس پلیٹ فارم کے ذریعے پوری پاکستانی قوم، پاکستان کی قیادت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر ذمہ داران کو واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان مخالف بیانات یا نعرے چند شرپسند عناصر کی آواز ہو سکتے ہیں، لیکن یہ کشمیری عوام نہ ہی حریت کانفرنس کا مؤقف ہے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی سوچ ہے‘۔
پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑا
غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، جنیوا اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسلسل کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ ایسا کوئی اہم موقع نہیں جس پر پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش نہ کیا ہو‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری اتنے ناشکرے نہیں ہو سکتے کہ جو ملک ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد کر رہا ہو، وہ اسی کے خلاف نعرے لگائیں۔
عوامی مطالبات سنے جائیں، مگر آئینی راستہ اختیار کیا جائے
حریت رہنما نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’کمیٹی کے بعض مطالبات درست اور عوامی نوعیت کے ہیں، جن پر حکومت کو توجہ دینی چاہیے، تاہم آئینی اور قانونی معاملات کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے‘۔
غلام محمد صفی نے زور دیا کہ احتجاج اور تصادم کے نتیجے میں جانوں کے ضیاع سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ پیچیدگیاں بڑھتی ہیں۔
بھارت اور پاکستان کو ایک پلڑے میں رکھنا ناقابل قبول
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بعض حلقے آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں، لیکن وہ اس وقت خاموش تھے جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید کیے گئے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی آج جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر رہی ہے، پہلے کیوں نہیں کیا؟ چوہدری انوار الحق
انہوں نے کہا کہ ’عوام کے جائز مطالبات اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن بھارت اور پاکستان کو ایک ہی ترازو کے پلڑے میں تولنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی‘۔
کشمیر کاز پر قومی یکجہتی وقت کی ضرورت
غلام محمد صفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کے حل کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کشمیریوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حریت کانفرنس کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھے گی اور پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی، سیاسی اور جذباتی رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرتی رہے گی۔














