وفاقی حکومت نے مالی سال بجٹ 27-2026 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات، محصولات میں اضافے اور کسٹمز انتظامیہ کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مالی سال بجٹ 27-2026 میں ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات
پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ سرحدی اور ساحلی پٹیوں کی نگرانی پر خرچ کیا جائے گا، جس کے تحت دریائے سندھ، حب اور بلوچستان کے اہم مقامات پر کسٹمز کے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ مراکز قائم کرنے کے لیے 5 ارب 57 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی تردید کر دی، بلاول بھٹو کی عدم شرکت کا اعلان
اس کے علاوہ سرحدی تجارت اور راہداری تجارتی نظام (ٹرانزٹ ٹریڈ) کی ڈیجیٹل نگرانی کے منصوبے کے لیے 2 ارب روپے، جب کہ سی پیک کے مرکز گوادر میں ’ماڈل کسٹمز کلیکٹریٹ‘ کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے کسٹمز کے نظام کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنا کر اسمگلنگ کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے گا۔
بجٹ میں کمی اور کارکردگی کا چیلنج
بجٹ دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محصولات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے منصوبوں کے لیے 3 ارب 50 کروڑ روپے علیحدہ سے مختص کیے گئے ہیں۔
ان تمام تر اقدامات کا بنیادی مقصد ٹیکس وصولی کے روایتی نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف منتقل کرنا ہے تاکہ ٹیکس چوری کے راستے بند کیے جا سکیں اور ملکی خزانے کو مستحکم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
تاہم رواں مالی سال کا یہ بجٹ گزشتہ برس کے مقابلے میں کچھ کم ہے، کیونکہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے 12 ارب 21 کروڑ روپے کی بھاری رقم مختص کی تھی۔
بھاری فنڈز کی فراہمی اور ڈیجیٹلائزیشن کے باعث اگرچہ ٹیکس وصولیوں میں کچھ بہتری تو ریکارڈ کی گئی، لیکن اس کے باوجود ایف بی آر گزشتہ برس اپنے سالانہ محصولات کے مقررہ ہدف کو مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے نگرانی کے نظام کو سخت کرنے کے دعوؤں کے باوجود محصولات کے سرکاری ہدف اور حقیقی وصولیوں کے درمیان پایا جانے والا بڑا فرق تاحال برقرار ہے، جو نئے مالی سال میں حکومت اور ایف بی آر کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔













