پنجاب حکومت نے صوبے میں فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت، آواز اور چہرے کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026 کا باقاعدہ مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل شناخت اب قانونی ملکیت
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فنکار کی آواز، چہرہ اور دیگر ڈیجیٹل علامات کو قانونی طور پر اس کی ’محفوظ ملکیت‘ قرار دیا جائے گا۔ قانون نافذ ہونے کے بعد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے کسی بھی فنکار کی آواز یا چہرے کا غیر مجاز (بغیر اجازت) استعمال مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
تحریری اجازت اور ’ڈسکلیمر‘ لازمی قرار
بل کے مطابق کسی بھی اے آئی پرفارمنس، وائس کلوننگ یا ڈیجیٹل نقل کے استعمال سے قبل متعلقہ فنکار کی واضح، تحریری اور مخصوص اجازت لینا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:شوبز اسٹارز پر منڈلاتا نیا ’خطرہ کیا ہے؟، ہیرا ترین کا فنکاروں کے لیے اہم ترین انتباہ جاری
اس کے علاوہ ایسے ہر مواد میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا واضح ’ڈسکلیمر‘ دینا بھی ضروری ہوگا تاکہ دیکھنے اور سننے والوں کو معلوم ہو سکے کہ یہ مواد اے آئی سے تیار شدہ ہے۔
بغیر اجازت استعمال پر سخت سزائیں اور جرمانے
مجوزہ قانون میں وائس کلوننگ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے جعلی توثیق یا سیاسی پیغامات کے پھیلاؤ پر سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔ بل کے تحت فنکار کی مرضی کے بغیر اس کی اے آئی نقل تیار کرنے یا استعمال کرنے پر ’3 سال قید‘ اور ’کروڑوں روپے جرمانے‘ کی سزا دی جا سکے گی۔
ڈیجیٹل رائٹس رجسٹری کا قیام اور معاوضہ
بل میں فنکاروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا ریگولیٹری نظام اور ’ڈیجیٹل رائٹس رجسٹری‘ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔ اب کسی بھی قسم کی اے آئی پرفارمنس کے لیے فنکار کے ساتھ باقاعدہ قانونی معاہدہ کرنا ہوگا اور اس کے لیے الگ سے معاوضہ ادا کرنا لازمی ہوگا۔
کم عمر اور مرحوم فنکاروں کے لیے خصوصی تحفظ
مجوزہ قانون میں معاشرے کے تمام طبقات کا خیال رکھا گیا ہے،18 سال سے کم عمر فنکاروں کے لیے خصوصی قانونی تحفظ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت والدین یا سرپرست کی رضامندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی ڈیپ فیک تصویر وائرل، سخت وارننگ جاری
دنیا سے رخصت ہو جانے والے فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت اور حقوق کو ان کی وفات کے بعد ’25 سال تک‘ قانونی طور پر تحفظ حاصل رہے گا، تاکہ ان کے کام کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔














