انکم ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایف بی آر نے کاروباروں کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کی شرط سخت کرنے کی تجاویز دے دی ہیں، جس کے تحت مقررہ وقت میں ڈیجیٹل انٹیگریشن نہ کرنے والوں پر لاکھوں روپے جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس بل میں ٹیکس نظام میں شفافیت اور نگرانی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام سے متعلق نئی تجاویز شامل کی ہیں۔ ان تجاویز کے مطابق وہ کاروباری ادارے جو مقررہ مدت میں اپنے ریکارڈ اور نظام کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام کے ساتھ منسلک نہیں کریں گے، انہیں مالی جرمانوں اور دیگر کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مجوزہ قوانین کے تحت کاروبار کا ڈیجیٹل انٹیگریشن نہ کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں کاروبار کو عارضی طور پر سیل کرنے اور 50 لاکھ روپے تک مزید جرمانے کی کارروائی بھی شامل ہے۔

ایف بی آر نے جعلی اور فرضی ٹیکس انوائسز کے خلاف بھی سخت اقدامات تجویز کیے ہیں۔ جعلی انوائس جاری کرنے والے افراد یا اداروں پر انوائس کی مکمل مالیت کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
تجاویز کے مطابق اگر ان پٹ ٹیکس اور آؤٹ پٹ ٹیکس میں فرق ثابت ہو جائے تو اس پر بھی 20 فیصد جرمانہ عائد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ جعلی انوائس جاری کرنے والے سپلائرز سے لین دین کرنے والے خریدار بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ سے متعلق وضاحت کردی
فنانس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر ٹیکس کریڈٹ کی رقم 60 دن کے اندر واپس نہ کی جائے تو اضافی 20 فیصد جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
ایف بی آر کے مطابق ڈیجیٹل نظام کا مقصد کاروباری لین دین کو ریکارڈ میں لانا، ٹیکس چوری روکنا اور ٹیکس نظام میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔














