اقصادی سروے اور غربت کی شرح، عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

منگل 16 جون 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے اقتصادی سروے 2025-26 میں جاری کیے گئے اعداد و شمار نے ایک بار پھر ملک کی معاشی صورتحال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 3 میں سے ایک پاکستانی غربت کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ محض ایک فیصد یا عدد نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ مشکلات، محدود مواقع، کمزور معیارِ زندگی اور غیر یقینی مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی سطح پر بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سامنے آیا ہے، جہاں غربت کی شرح 47 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 35.3 فیصد، سندھ میں 32.6 فیصد اور پنجاب میں 23.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار بظاہر صرف ایک معاشی رپورٹ کا حصہ ہیں، لیکن اگر ان کے پیچھے چھپی انسانی کہانیوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت صرف آمدن کی کمی کا نام نہیں، بلکہ مواقع، سہولیات اور عزتِ نفس کی کمی کا بھی دوسرا نام ہے۔

اقتصادی سروے کیا ہے؟

اقتصادی سروے (Economic Survey) حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ پیش ہونے سے قبل جاری کی جانے والی ایک جامع رپورٹ ہوتی ہے، جس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں معاشی ترقی، مہنگائی، غربت، بے روزگاری، زراعت، صنعت، برآمدات، درآمدات، حکومتی آمدن و اخراجات اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔

اقتصادی سروے کو کسی بھی ملک کی ’سالانہ معاشی رپورٹ کارڈ‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران معیشت نے کس سمت میں سفر کیا، کن شعبوں میں بہتری آئی اور کن مسائل نے مزید شدت اختیار کی۔

عالمی بینک کیا کہتا ہے؟

غربت کے حوالے سے عالمی سطح پر معتبر ادارہ عالمی بینک (World Bank)  بھی پاکستان کی معاشی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ عالمی بینک کی مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں مہنگائی، کمزور معاشی نمو اور روزگار کے محدود مواقع نے لاکھوں افراد کو غربت کے خطرے سے دوچار کیا ہے۔

عالمی بینک کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں اضافے اور حقیقی آمدنی میں کمی نے کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ خوراک، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے لاکھوں خاندانوں کی قوتِ خرید کو کمزور کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ غربت کے سرکاری اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان ایک واضح فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔

غربت صرف دیہات کا مسئلہ نہیں رہی

کچھ سال پہلے تک یہ تصور عام تھا کہ غربت زیادہ تر دیہی علاقوں کا مسئلہ ہے، لیکن تازہ اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔

آج کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو بظاہر ملازمت کرتے ہیں، مگر ان کی آمدن مہنگائی کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔

شہری علاقوں میں کرایوں میں مسلسل اضافہ، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل، بچوں کی تعلیم کے اخراجات اور صحت کی سہولیات کی مہنگائی نے متوسط طبقے کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہری غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

40 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا کہاں کھڑا ہے؟

اب ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

فرض کریں ایک شخص کسی نجی ادارے میں ملازم ہے اور اس کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے ہے۔ بظاہر یہ شخص بے روزگار نہیں، اس کے پاس آمدن کا ذریعہ موجود ہے، لیکن کیا وہ معاشی طور پر محفوظ ہے؟

آئیے ایک عام خاندان کے اخراجات کا اندازہ لگاتے ہیں:

گھر کا کرایہ: 15,000 تا 20,000 روپے

بجلی، گیس اور پانی کے بل: 8,000 تا 12,000 روپے

ماہانہ راشن: 15,000 تا 20,000 روپے

بچوں کی تعلیم: 5,000 تا 10,000 روپے

سفری اخراجات: 3,000 تا 5,000 روپے

علاج معالجہ اور دیگر ضروریات: 3,000 تا 5,000 روپے

ان اخراجات کو جمع کیا جائے تو ایک پانچ یا چھ افراد پر مشتمل خاندان کے لیے کم از کم 50 سے 70 ہزار روپے ماہانہ درکار ہوتے ہیں، جبکہ آمدن صرف 40 ہزار روپے ہو تو خاندان کو یا تو قرض لینا پڑتا ہے، یا ضروریات میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔

اس صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا خاندان سرکاری تعریف کے مطابق غریب نہ ہونے کے باوجود عملی طور پر غربت کا شکار نہیں؟

ورکنگ پور” کی نئی حقیقت

دنیا بھر میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے Working Poor کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزگار رکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں، تنخواہ وصول کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتے۔ پاکستان میں ایسے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایک نجی کمپنی کا ملازم، ایک سیکیورٹی گارڈ، ایک سیلز مین، ایک ڈرائیور یا ایک کلرک بظاہر ملازمت کرتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ہر مہینے مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔

یہ وہ طبقہ ہے جو سرکاری غربت کے اعداد و شمار میں مکمل طور پر نظر نہیں آتا، لیکن معاشی دباؤ کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

اقتصادی سروے کے مطابق امیر اور غریب کی آمدن میں فرق 28 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔

ایک طرف ایسے طبقات موجود ہیں جن کے اثاثے، کاروبار اور سرمایہ کاری مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عام آدمی کی آمدن مہنگائی کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی متعدد رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاشی عدم مساوات کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔

جب دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے اور عام آدمی کی قوتِ خرید کمزور پڑ جائے تو معاشی ترقی کے فوائد پورے معاشرے تک نہیں پہنچ پاتے۔

اصل غربت کیا ہے؟

آج غربت کی تعریف صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص دو وقت کی روٹی حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔ جدید دنیا میں غربت کا تعلق تعلیم، صحت، صاف پانی، معیاری رہائش، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

ایک خاندان جو بچوں کو اچھی تعلیم نہ دلوا سکے، مناسب علاج نہ کروا سکے، اور ہر ماہ مالی پریشانی میں مبتلا رہے، وہ بظاہر غربت کی لکیر سے اوپر ہونے کے باوجود معاشی محرومی کا شکار سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ غربت کو صرف آمدن کے پیمانے سے نہیں، بلکہ معیارِ زندگی کے پیمانے سے بھی جانچنا چاہیے۔

آگے کیا ہونا چاہیے؟

پاکستان میں غربت کے مسئلے کا حل صرف امدادی پیکجز یا عارضی ریلیف نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

صنعتی اور زرعی شعبے کو مضبوط بنایا جائے۔

مہنگائی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جائے۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔

کم آمدنی والے طبقے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

جب تک عام شہری کی آمدن میں حقیقی اضافہ نہیں ہوگا، غربت کے اعداد و شمار میں مستقل بہتری لانا مشکل رہے گا۔

اقتصادی سروے میں ظاہر کی گئی 28.9 فیصد غربت کی شرح یقیناً تشویش ناک ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعداد و شمار پاکستان کے ہر اس خاندان کی مشکلات کی مکمل عکاسی کرتے ہیں جو مہنگائی اور کم آمدن کے درمیان پِس رہا ہے؟

جب ایک 40 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص بھی اپنے بچوں کی تعلیم، گھر کے کرایے، بجلی کے بل اور راشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو یہ بحث مزید اہم ہو جاتی ہے کہ غربت کی حقیقی تعریف کیا ہونی چاہیے۔

شاید آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف غربت نہیں، بلکہ قوتِ خرید کا مسلسل کم ہونا، متوسط طبقے کا سکڑنا اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔

اور اگر ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں غربت صرف ایک معاشی اشاریہ نہیں رہے گی بلکہ ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور برطانیہ میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، اصلاحات اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلۂ خیال

وزیرِ خزانہ اور برطانوی وزیر ہمیش فاکنر کے درمیان علاقائی صورتحال سمیت اقتصادی منظرنامے پر تبادلۂ خیال

نیا البم کب آئے گا؟ عاطف اسلم نے بڑا اعلان کردیا

موسمیاتی تبدیلی کا سنگین خطرہ: دنیا کے قریباً تمام بچے ماحولیاتی آفات کی زد میں، یونیسف

نواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ن لیگ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ