عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا میں اس وقت تنازع کھڑا ہوگیا ہے جب فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کے سینیئر مشیر کارلوس کورڈیرو نے ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ فروخت کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی مشکلات بڑھ گئیں، ورلڈ کپ نجی سرمایہ کاروں کو دینے کے منصوبے پر بغاوت کا سامنا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق معروف سرمایہ کاری بینکر اور امریکی فٹبال فیڈریشن کے سابق نائب صدر کارلوس کورڈیرو نے اپنے استعفے کی وجہ فیفا کے اس متنازع منصوبے کو قرار دیا جس کے تحت ورلڈ کپ میں بیرونی سرمایہ کاروں کو حصہ داری دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
کورڈیرو نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایسے اقدام کی حمایت نہیں کر سکتے جس کے ذریعے فیفا ورلڈ کپ جیسے سب سے قیمتی اثاثے میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی تیاری میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور وہ اس کی مکمل مخالفت کرتے ہیں۔
20 ارب ڈالر کے منصوبے پر اختلاف
تنازع کی بنیاد فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) نامی ایک نئی تجارتی کمپنی کے قیام کی تجویز ہے جس کی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس ادارے کے ذریعے ورلڈ کپ اور فیفا کے دیگر بڑے ایونٹس کا تجارتی انتظام کیا جانا ہے۔
منصوبے کے تحت فیفا اس نئی کمپنی میں بیرونی سرمایہ کاروں کو 20 فیصد تک حصہ فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے جس سے تقریباً 4.2 ارب ڈالر کا نیا سرمایہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیے: نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے، یوئیفا کی فیفا کو وارننگ
تاہم کورڈیرو نے اس منصوبے کو فٹبال کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیفا کے پاس پہلے ہی اربوں ڈالر کے ذخائر موجود ہیں اور ادارہ کسی قرض کا محتاج نہیں اس لیے ورلڈ کپ جیسے قیمتی اثاثے میں مستقل حصہ داری فروخت کرنے کی ضرورت سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ فیفا کی رکن فٹبال تنظیموں، کھیل اور طویل مدتی مستقبل کے لیے ایک نامناسب اقدام ہوگا۔
رکن ممالک پر دباؤ کا خدشہ

کورڈیرو کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیفا کے 211 رکن ممالک کو اس منصوبے پر ستمبر تک فیصلہ کرنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قومی فٹبال تنظیمیں اس تجویز کو مسترد کرتی ہیں تو انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان پر بالواسطہ دباؤ موجود ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کریں۔
مزید پڑھیں: فیفا کا اربوں ڈالرز کمانے کا نیا متنازع منصوبہ، یوروپی فٹ بال ایسوسی ایشن کا شدید ردِعمل
کورڈیرو نے فیفا صدر جانی انفینٹینو کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سنہ 2022 سے سنہ 2026 کے مالیاتی دور میں فیفا کی آمدنی تقریباً 15 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق یہ مالی طاقت اس بات کے لیے کافی ہے کہ فیفا اپنے رکن ممالک کو مزید تعاون فراہم کر سکے اس لیے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔
کارلوس کورڈیرو کون ہیں؟

کارلوس کورڈیرو کو سال 2021 میں فیفا صدر کے سینیئر مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری فیفا کی حکمت عملی، جدید منصوبوں اور فٹبال کے فروغ سے متعلق معاملات میں صدر کو مشورے دینا تھی۔
اس سے قبل وہ عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں اور یورپ، مشرق وسطیٰ، افریقا اور ایشیا میں حکومتوں اور بڑی عالمی کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشاورت کا تجربہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’نفرت کے بیج نہ بوئیں‘: ورلڈ کپ 2026 پر تنقید کرنے والوں کو فیفا صدر کا دوٹوک جواب
کورڈیرو کے استعفے نے فیفا کے اندر ورلڈ کپ کے تجارتی مستقبل، نجی سرمایہ کاری کے کردار اور کھیل کی ملکیت سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












